Sunday , August 19 2018
Home / سیاسیات / گجرات کانگریس میں بے اطمینانی کو دور کرنے ہائی کمان کی مساعی

گجرات کانگریس میں بے اطمینانی کو دور کرنے ہائی کمان کی مساعی

احمد آباد23نومبر (سیاست ڈاٹ کام ) گجرات میں اسمبلی انتخابات کے لئے ٹکٹ کی تقسیم کے بعد پارٹی کارکنوں کے درمیان بھڑکی عدم اطمینان کی چنگاری کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کانگریس اعلی کمان اہم رہنماؤں کی ’فائر فائٹنگ‘ ٹیم یہاں بھیج سکتی ہے ۔پارٹی ذرائع کے مطابق آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے عہدیداروں کی ایک ٹیم جلد ہی ریاست کا دورہ کرے گا۔ اس سلسلہ میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہی ان دعویداروں سے بات چیت کی جائے گی ، جو اس بار ٹکٹ سے محروم ہو گئے ہیں۔ایک سینئر پارٹی لیڈر نے کہا’’ہمارے تمام کارکن اہم ہیں اور یہ بھی ایک مسئلہ ہے ‘‘۔کانگریس میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات تب ہی شروع ہو گئے تھے ، جب کانگریس نے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کی۔ سورت علاقہ میں اس کے بعد ہی پارٹی میں بغاوت پھیل گئی اور اپنی گرفت رکھنے والے تین مقامی لیڈروں نے پارٹی چھوڑ دی۔ کانگریس کے دو کونسلروں دھن سکھ راجپوت اور جیوتی سوجترا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا اور سینکڑوں کی تعداد میں پارٹی کارکنوں نے انتخابی مہم کے کام سے خود کو الگ کر لیا۔ پارٹی قیادت سے ناخوش پردیش کانگریس سیکرٹری فیروز ملک کا کہنا ہے کہ انتخابات میں مناسب تعداد میں مسلم امیدوار کھڑے کرنے سے متعلق یقین دہانی کو بھی پورا کرنے میں پارٹی ناکام رہی ہے ۔گڈز ایند سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کو لے کر سورت علاقے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف تاجروں کے غصہ کا کانگریس کو اچھا جواب ملنے کی امید تھی، لیکن ٹکٹ تقسیم کے بعد پھیلی عدم اطمینان کی چنگاری ان امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے ۔ راجپوت نے الزام لگایا کہ یہاں نواسرت شمالی ہند علاقے کے لوگوں اور مہاجر مزدوروں کو جوڑے رکھنے میں بھی کانگریس ناکام رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کانگریس نے شمالی ہند کے لوگوں میں سے کسی کو بھی ٹکٹ نہیں دیا، جبکہ ریاست میں ہمارے 15 لاکھ سے زیادہ بھی مہاجر مزدوروں کی طاقت ہے۔

TOPPOPULARRECENT