گجرات کو منتقلی کی اطلاعات ‘ دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں علماء کا ردعمل

مولانا عبدالقوی کی دہلی میں گرفتاری

مولانا عبدالقوی کی دہلی میں گرفتاری
حیدرآباد۔/23 مارچ(سیاست نیوز) حیدرآباد کے نامور عالم دین مولانا محمد عبدالقوی ناظم جامعہ اشرف العلوم حیدرآباد کو آج شام دہلی ایرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا۔ مولانا عبدالقوی آج شام ذریعہ طیارہ حیدرآباد سے دہلی روانہ ہوئے تھے تاکہ دارالعلوم دیوبند میں منعقد شدنی رابطہ مدارس دینیہ کے اجلاس میں شرکت کرسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی ایرپورٹ پر پہنچنے کے ساتھ ہی مولانا عبدالقوی کو چند لوگوں نے گھیر لیا اور خود کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے تعلق ظاہر کرتے ہوئے بورڈنگ پاس، بیاگیج اور سیل فون وغیرہ چھین لئے۔ پولیس نے دہلی ایرپورٹ پر مولانا کے استقبال کے لئے پہنچنے والے نوجوانوں کو بھی حراست میں لے کر ان کے سیل فون ضبط کرلئے تھے تاہم بعدازاں ان نوجوانوں کے پتے نوٹ کرلینے کے بعد انہیں چلے جانے کی اجازت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مبینہ کارروائی گجرات پولیس نے کی۔ مولانا کو بعدازاں ایرپورٹ سے دہلی کے ایک پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں سے انہیں گجرات منتقل کرنے کی کارروائی کی جارہی ہے۔

ایک اور اطلاع میں بتایا گیا کہ مولانا کو رات دیر گئے احمد آباد منتقل کردیا گیا ہے۔ جنرل سکریٹری جمعیتہ علماء ہند مولانا سید محمود مدنی کو مولانا عبدالقوی کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی وہ دہلی اور گجرات میں اعلیٰ پولیس عہدیداروں سے رابطہ قائم کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ مولانا محمود مدنی نے اس گرفتاری کا سخت نوٹ لیا اور اسے غیر قانونی قرار دیا۔ وہ احمد آباد کیلئے روانہ ہورہے ہیں۔ مولانا کے بڑے بھائی مولانا مفتی عبدالمغنی مظاہری، جمعیتہ علماء شہر حیدرآباد کے صدر ہیں۔ مولانا عبدالقوی کا شمار ملک کے جید علمائے کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی ساری زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ مولانا عبدالقوی ایک غیر سیاسی اور غیر نزاعی شخصیت ہیں، ان جیسی شخصیت پر دہشت گردی کا لیبل لگانا انتہائی ناگوار ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ مولانا عبدالقوی کی گرفتاری پر دینی مدارس کے طلبۂ اور طبقہ علماء بڑے پیمانہ پر احتجاج شروع کریں گے۔ یاد رہے کہ چند برس قبل بھی مولانا عبدالقوی کے بھانجے مولانا محمد اشرف کو گجرات پولیس نے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا تھا تاہم وہ عدالت سے رہا ہوگئے ۔

TOPPOPULARRECENT