Saturday , January 20 2018
Home / Top Stories / گجرات کے بارے میں بی جے پی اور مودی کے دعوے ،’’بڑے جھوٹ‘‘

گجرات کے بارے میں بی جے پی اور مودی کے دعوے ،’’بڑے جھوٹ‘‘

نئی دہلی 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور اس کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی پر راست تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ فسادات کے پاک گجرات اور اس کی مبینہ ترقی ’’بہت بڑے‘‘ جھوٹ ہیں۔مخالف فرقہ پرستی اور گجرات کی خود ساختہ مثالی ترقی کو بکواس قرار دینے والے ورقیوں کا رسم اجراء انجام دیتے ہوئے پارٹی کی سینئر قائد برندا ک

نئی دہلی 24 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور اس کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی پر راست تنقید کرتے ہوئے سی پی آئی (ایم) نے کہا کہ فسادات کے پاک گجرات اور اس کی مبینہ ترقی ’’بہت بڑے‘‘ جھوٹ ہیں۔مخالف فرقہ پرستی اور گجرات کی خود ساختہ مثالی ترقی کو بکواس قرار دینے والے ورقیوں کا رسم اجراء انجام دیتے ہوئے پارٹی کی سینئر قائد برندا کرت نے یہ بھی دعوی کیا کہ ملک میں کوئی مودی لہر نہیں ہے اور بی جے پی انتحابات میں کامیابی سے ’’مایوس‘‘ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مایوسی ان کی کارروائیوں سے جھلکتی ہے وہ نہ صرف خود اپنے سینئر قائدین کو برہم اور مایوس کررہے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دے رہے ہیںجن پر مظفر نگر فسادات مقدموں میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہے۔ امیت شاہ جیسے لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں جن پر فرضی انکاونٹر میں ہلاکتوں کا مقدمہ چل رہا ہے۔ پرمود متلک جیسے لوگوں کوشامل کررہے ہیں ( جن کی تنظیم منگلور میں خواتین سے بدسلوکی میں ملوث رہ چکی ہے)۔برندا کرت کے ہمراہ گجرات سی پی آئی (ایم ) کے قائد ارون مہتا بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات کی مثال ترقی سستے مزدوروں اور اُن کے استحصال پر مبنی ہے۔ پیداوار کی لاگت بہت کم ہے ،ناقص تغذیہ کی سطح بہت بلند ہے۔ ہائی اسکول تعلیم ترک کرنے والوں کی شرحیں بہت بلند اور تعلیم اور حفظان صحت پر خرچ کی سطح بہت کم ہے۔ انہوں نے ادعا کیا کہ سی پی آئی (ایم ) کے کتابچوں میں یہ نتیجہ سرکاری اعداد و شمار جیسے مردم شماری اور این ایس ایس او کے ریکارڈس کی بنیاد پر عکس کیا گیا ہے کہ فی کس خرچ کی شرح گجرات کے دیہی علاقوں میں اتنی ظاہر کی گئی کہ جس کی 90 فیصد رقم 75 روپئے روزانہ صرف غذا اور اشیائے ضروریہ پر صرف ہوجاتی ہے۔

نریندر اور پی چدمبرم بیکاروں کی شرح ترقی کے اعتبار سے مساوی ہے۔ گجرات کی مثال ترقی صرف کارپوریٹ گھرانوں کے لئے ہیں عوام کیلئے نہیں۔ مودی کی ’’متحرک گجرات ‘‘مہم پر تنقید کرتے ہوئے مہتا نے کہا کہ بلا وقفہ برقی اور پانی کی سربراہی کے دعووں کے باوجود گجرات کے دیہاتوں کو صرف 6 گھنٹے برقی سربراہی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے اضلاع بھی ہیں جہاں پر ہفتہ میں ایک بار سے ہفتہ میں تین بار تک پینے کا پانی سربراہ کیا جاتا ہے۔ بعض مقامات پر یہ وقفہ 10 دن کا ہے۔ قبائیلی اور اقلیتیں بد ترین متاثرہ طبقات ہیںجن کے حالات زندگی بنیادی ضروریات اور آمدنی سے بھی محروم ہیں۔ گجرات میں حال ہی میں ایک اسکینڈل کا پتہ چلا ہے جس میں بعض لوگ ان عہدوں کے امیدواروں سے لاکھوں روپئے حاصل کرچکے ہیں۔ برندا کرت نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات سے پاک گجرات کا مودی کا دعوی ایسی ریاست کے بارے میں ہے جو فرقہ وارانہ تشدد کے لحاظ سے تاریخ میں سرفہرست پانچ ریاستوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی ملک کے سیکولر کردار کا علحدہ مسئلہ نہیں ہے۔ مودی کا مثالی نمونہ کانگریس کی پالیسیوں کا متبادل کبھی بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ دونوں کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT