گجرات کے متنازعہ آئی پی ایس آفیسرس پانڈے اور ونزارا کو ضمانت

احمدآباد۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے متنازعہ آئی پی ایس آفیسرس ڈی جی ونزارا اور پی پی پانڈے کو خصوصی عدالت نے عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں مشروط ضمانت منظور کرلی۔ عدالت کا یہ احساس تھا کہ استغاثہ ایجنسی سی بی آئی نے انٹلیجنس بیورو کے اس موقف کی تردید نہیں کی ہے کہ عشرت جہاں اور دیگر کے دہشت گردوں سے روابط تھے۔ اسپیشل سی بی

احمدآباد۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کے متنازعہ آئی پی ایس آفیسرس ڈی جی ونزارا اور پی پی پانڈے کو خصوصی عدالت نے عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر مقدمہ میں مشروط ضمانت منظور کرلی۔ عدالت کا یہ احساس تھا کہ استغاثہ ایجنسی سی بی آئی نے انٹلیجنس بیورو کے اس موقف کی تردید نہیں کی ہے کہ عشرت جہاں اور دیگر کے دہشت گردوں سے روابط تھے۔ اسپیشل سی بی آئی جج کے آر اپادھیائے نے پی پی پانڈے کو ضمانت کیلئے درخواست دینے کی اجازت دی۔ انہیں جس وقت معطل کیا گیا ، وہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس کے عہدہ پر تھے۔ ڈی جی ونزارا کو بھی ضمانت منظور کی گئی۔ عدالت نے مشروط ضمانت کیلئے دو علیحدہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ انٹلیجنس بیورو نے گزشتہ سال سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلف نامے میں کہا تھا کہ انکاؤنٹر میں ہلاک چار افراد کے دہشت گرد گروپس سے روابط تھے۔ سی بی آئی نے اس کی تردید نہیں کی ہے۔انکاؤنٹر میں 14 افراد ملوث تھے لیکن چارج شیٹ میں صرف 7 افراد کا نام درج کیا گیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمہ میں سی بی آئی کی دائر کردہ چارج شیٹ کو بھی غلط پایا۔ گجرات میں بی جے پی حکومت نے دو آئی پی ایس عہدیدار کی ضمانت منظور کئے جانے کا خیرمقدم کیا۔ سرکاری ترجمان اور وزیر صحت نتن پاٹل نے کہا کہ جہاں تک عشرت جہاں انکاؤنٹر مقدمہ کا تعلق ہے ، انہیں یقین ہے کہ عدالت قانون کے مطابق فیصلہ سنائے گی اور گجرات کیڈر کے پولیس عہدیداروں کیساتھ انصاف کرے گی جنہیں ماضی میں اس مقدمہ میں ماخوذ کیا گیا تھا۔ کانگریس نے تاہم آئی پی ایس عہدیداروں کو ماخوذ کرنے کی تردید کی ہے۔ ڈی جی ونزارا کے ارکان خاندان اور حامی آج احاطہ عدالت کے باہر کثیر تعداد میں موجود تھے جنہوں نے ضمانت منظور کئے جانے کی خوشی منائی اور آتش بازی کی۔ ونزارا کو سہراب الدین مقدمہ کے سلسلے میں جون 2007ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے آج انہیں 2 لاکھ روپئے جبکہ پانڈے کو جنہیں 2013ء میں گرفتار کیا گیا ، ایک لاکھ روپئے بطور ضمانت جمع کرانے کا حکم دیا۔

TOPPOPULARRECENT