Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / گجرات کے مختلف حصوں میں عوامی ناراضگی پر بی جے پی کارکنوں میں تشویش

گجرات کے مختلف حصوں میں عوامی ناراضگی پر بی جے پی کارکنوں میں تشویش

مہسانہ میں پٹیل برادری کے غیض و غضب سے کامیابی کی امیدیں متاثر، مودی کے ٹاؤن میں بھی ووٹرس ناخوش

مہسانہ؍ واد نگر۔10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں 22 سال سے حکومت کرنے والی ’بی جے پی‘کے کارکنوں میں دن بہ دن اس احساس میں شدت پیدا ہورہی ہے کہ اس مرتبہ ان کی پارٹی کو سخت امتحان کا سامنا ہے۔ اس ریاست کے مختلف حصولوں میں بی جے پی کے سبب پائی جانے والی عوامی ناراضگی کی جھلک حتی کہ وزیراعظم نریندر مودی کے پیدائشی ٹاؤن واد نگر میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جبکہ یہ پارٹی لگاتار پانچویں مرتبہ اقتدار پر واپسی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ بی جے پی کے ایک قدیم ورکر ڈکشٹ پٹیل اپنی پارٹی کو پاٹیدار طبقہ کی گھٹتی ہوئی تائید سے خوف زدہ ہیں۔ وہ 2015ء میں پاٹیدار ایجی ٹیشن کے دوران پیش آئے پرتشدد واقعات سے پریشان ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے روز پارٹی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑسکتا ہے۔ ڈکشٹ پٹیل ہی وہ واحد بی جے پی کارکن نہیں ہیں جو سمجھتے ہیں کہ 14 ڈسمبر کا انتخاب کافی گراں گذرے گا بلکہ سارے ضلع مہسانہ میں جہاں 7 اسمبلی حلقے ہیں۔ بی جے پی کیمپ کے مزاج میں ایک عجیب کشیدگی دیکھی اور محسوس کی جاسکتی ہے۔ بی جے پی ورکرس ان اندیشوں سے خوف زدہ ہیں کہ پاٹیداروں کا غیض و غضب اس زعفرانی پارٹی کی کامیابی کے امکانات کو تہس نہس کرسکتا ہے۔ خوف اور اندیشوں کی یہ ساری کہانی مہسانہ سے شروع ہوتی ہے جہاں سے دو سال قبل ہاردک پٹیل کی قیادت میں ’پاٹیدار انامت آندولن‘ نے پاٹیدار ایجی ٹیشن شروع کیا تھا، لیکن سیاسی اثر و رسوخ کے حامل کاروباری طبقہ پاٹیداروں کو تحفظات دینے کیلئے شروع کردہ ایجی ٹیشن پرتشدد موڑ اختیار کرگیا تھا جس میں چند افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے اور چند پاٹیدار قائدین کو جیل بھیج دیا گیا تھا جس کے باوجود پٹیل برادری کو تحفظات دینے کے مطالبہ پر ریاستی بی جے پی حکومت خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

 

بی جے پی کی گجرات میں خطرناک انتخابی مہم : سی پی آئی
بھوبنیشور۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی نے آج بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ گجرات میں وہ ’’خطرناک انتخابی مہم‘‘چلا رہی ہے۔ ریاست میں پارٹی کی مثالی ترقی کا دعویٰ بھی آشکار ہوچکا ہے۔ سی پی آئی قومی سیکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ گجرات کے کسان ، تاجر اورصنعت کار نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے باعث ناخوش ہیں۔ ریاست میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں بھی خرابیاں پائی گئی ہیں۔ اس سے عوام کے ذہنوں میں شبہات پیدا ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT