Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / گجرات کے کئی علاقوں سے کرفیو برخاست، فوج کا فلیگ مارچ جاری

گجرات کے کئی علاقوں سے کرفیو برخاست، فوج کا فلیگ مارچ جاری

صورتحال میں بہتری پر حکومت کا اقدام، کشیدگی میں کمی کا ادعا، ہاردک پٹیل مذاکرات کیلئے تیار نہیں

احمد آباد /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) تشدد سے متاثرہ گجرات میں آج کشیدگی برقرار رہی، جہاں پٹیل کوٹہ ریزرویشن کے احتجاج نے کافی ہلچل مچارکھی ہے ، ویسے کئی شہروں اور احمدآباد کے بعض حصوں سے کرفیو کو برخاست کردیا گیا اور گزشتہ روز سے کوئی بڑے واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ 22 سالہ کامرس گرائجویٹ ہاردک پٹیل جنھوں نے ریزرویشن کے مطالبے پر گجرات میں غالب پٹیل کمیونٹی کو متحرک کردیا ہے، انھوں نے آج اس ایجی ٹیشن میں شدت پیدا کرنے کی دھمکی دی اور تائید و حمایت کیلئے گجروں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہاردک نے نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کو انٹرویو میں بھی کہا کہ اُن کا واحد مقصد پٹیل کمیونٹی کی او بی سی زمرے میں شمولیت ہے ، نہ کہ کوٹہ سسٹم کی برخاستگی۔ نیز انھوں نے اس مسئلے پر مذاکرات کو ٹھوس طور پر خارج از امکان قرار دیا ہے۔ عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ گجرات کی صورتحال بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بناس کنٹھ کے موضع گڈھ اور احمدآباد سٹی کے چھ پولیس اسٹیشن علاقوں کے سوا آج ریاست کے کئی حصوں میں کرفیو ختم کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ کنٹرول روم کے مطابق مہسانہ، اُنجھا، وش نگر اور ضلع مہسانہ کے کڈی ٹاؤن میں آج کرفیو برخاست کردیا گیا ہے۔ سورت کے کپوڈرا اور وراچا علاقہ کے ساتھ سوراشٹرا خطہ کے موربی، راجکوٹ اور جام نگر شہر سے بھی کرفیو کی برخاستگی عمل میں آئی ہے۔

تاہم فوج کا فلیگ مارچ پوری ریاست میں جاری ہے۔ احمدآباد میں سٹی کنٹرول روم کے عہدہ دار نے کہا کہ شہر کے دیگر علاقوں میں صورتحال معمول پر ہے اور اگر کشیدگی میں کمی آئی تو ان علاقوں سے بھی کرفیو برخاست کیا جاسکتا ہے۔ شہر کے 9 علاقوں نکول، اودھو، رامول، باپو نگر، گھٹلوڈیا، نارن پورہ، نروڈا، کرشنا نگر اور ودج میں 26 اگست کو بڑے پیمانے پر تشدد کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ احمد آباد کے ضلع کلکٹر راج کمار بینی وال نے کہا کہ شہر کے بعض علاقوں کی سڑکوں پر اور حساس علاقوں میں، جہاں تشدد برپا کیا گیا تھا، فوج کا فلیگ مارچ جاری ہے۔ اور اب صورتحال مکمل طورپر پرامن اور قابو میں ہے۔ احمد آباد کے کسی بھی علاقہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تشدد کے کسی واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت شہر میں حسب معمول ہے۔ تیز رفتار بس ٹرانسپورٹ نظام کی بسیں آج سے چلنا شروع ہو گئی ہیں اور احمد آباد بلدی ٹرانسپورٹ خدمات کی بسوں کے آغاز کا بھی امکان ہے۔ کاروباری ادارے، بازار اور دوکانیں شہر میں کھل گئی ہیں، تاہم شہر کے 6 علاقوں میں اسکولس اور کالجس بند ہیں،

جہاں پر کرفیو جاری ہے، بازار بھی بند رہے۔ گجرات کے دیگر شہروں جیسے راجکوٹ، سورت، بناس کنٹھا اور مہسانہ سے بھی کسی پرتشدد واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ کنٹرول روم کے عہدہ دار نے کہا کہ ہیروں کی تجارت اور پارچہ بافی کی صنعتیں شہر سورت میں آج سے کھول دی گئی ہیں، جو گزشتہ دو دن سے بند تھیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر آنندی بین پٹیل کی امن کیلئے اپیلوں کی پرواہ کئے بغیر پٹیل برادری کے 22 سالہ قائد ہاردک پٹیل احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے برادری کے کاشت کاروں سے خواہش کرچکے ہیں کہ اشیائے ضروریہ جیسے دودھ اور ترکاریاں شہروں کو سربراہ نہ کریں۔ اور ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں دیگر پسماندہ طبقات کے کوٹہ کے تحت تحفظات کے مطالبہ کی تائید کریں۔ انھوں نے ہر مہلوک کے خاندان کو 35 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ہاردک پٹیلنے جو مختصر سے عرصہ میں پٹیل برادری کے نوجوان مقبول عام قائد بن کر ابھرے ہیں، اس سوال پر کہ کیا وہ سیاست میں حصہ لیں گے، جواب دینے سے گریز کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس موضوع پر انھوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ان کی توجہ مکمل طورپر پٹیل برادری کیلئے تحفظات کے مطالبہ پر مرکوز ہے اور وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ ہاردک پٹیل نے کہا کہ موجودہ مرحلہ پر (تشدد کے بعد) سودے بازی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ریاستی اور مرکزی حکومتیں موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں، جو ریاست گجرات میں پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے ورثاء کو فی کس 35 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کیا جائے اور پٹیل برادری پر فائرنگ کرنے والے تمام خاطی ملازمین پولیس کو معطل کیا جائے۔ اگر وہ ایسا کرنے سے قاصر رہتی ہے تو ہم احتجاج میں شدت پیدا کردیں گے۔ اپنی برادری کے افراد کو ہدایت دیں گے کہ شہروں کو اشیائے ضروریہ جیسے دودھ اور ترکاریاں فراہم نہ کریں۔  ہم دیگر کئی اقدامات پر بھی غور کر رہے ہیں، جن کے ذریعہ ہمارے احتجاج میں شدت پیدا کی جاسکتی ہے۔ ریاست میں ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کے بارے میں سوال پر ہاردک نے کہا کہ ہم دیگر پسماندہ طبقات یا کسی اور ذات کے مخالف نہیں ہیں، ہم صرف دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے زمرہ میں شمولیت کا اپنا حق چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT