Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / گجرات : 2019ء کی تیاری

گجرات : 2019ء کی تیاری

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو
کھٹک سی ہے جو سینے میں غمِ منزل نہ بن جائے
گجرات : 2019ء کی تیاری
مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور اس کی اعلیٰ قیادت کیلئے گجرات اسمبلی انتخابات میں کامیابی سخت آزمائش کی گھڑی ہے۔ گجرات انتخابات کو لوک سبھا 2019ء کے انتخابات کے طور پر لڑنے کی تیاری کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی اس آبائی ریاست میں انتخابی مہم کی طویل فہرست تیار کی ہے۔ اس کے علاوہ تمام مرکزی وزراء کو گجرات میں کیمپ کرنے کی ہدایت دے کر رائے دہندوں کو بی جے پی کے حق میں راضی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ الیکشن کمیشن پر الزام تھا کہ اس نے مرکز کے دباؤ میں آ کر ہی گجرات انتخابات کی تواریخ کے اعلان میں تاخیر کی تھی تاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے گجرات کے عوام کے حق میں کچھ راحت و امدادی کاموں کا اعلان کیا جاسکے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد کوئی بھی رجھانے والے کام انجام نہیں دیئے جاسکتے۔ عین منصوبے کے مطابق الیکشن کمیشن نے اسمبلی انتخابات کی تواریخ کے اعلان میں تاخیر کی اور وزیراعظم مودی نے گجرات پر مہربانیوں کی بارش کردی۔ گجرات میں ’’رورو فیری‘‘ سے لیکر جی ایس ٹی میں کسانوں کیلئے 18 فیصد تک کمی کی گئی۔ اس طرح کی حرکتوں کے بعد بی جے پی پر اپوزیشن کی تنقیدوں میں اضافہ ہونا فطری بات ہے۔ اپوزیشن کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی سے لیکر پٹے دار لیڈر ہاردک پٹیل اور او بی سی لیڈر ایش ٹھاکر نے بی جے پی کو چیلنج کیا کہ وہ گجرات کے تاجروں کے چہروں سے مایوسی کے آثار ہٹا کر دکھائیں۔ گجرات کے ان تاجروں نے ہی مودی کو وٹ دے کر منتخب کیا تھا اور مودی نے ان پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا۔ ملک کے صنعتی اداروں اور بڑے تجارتی گھرانوں نے مرکزی حکومت کی سخت معاشی پالیسیوں، نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور دیگر اقدامات کے باوجود گجرات میں بی جے پی کے کامیاب ہوجانے کی قیاس آرائی کی ہے۔ بلاشبہ گجرات ریاست وزیراعظم مودی کا آبائی مقام ہے اور مرکزی حکومت اپنی پوری توانائی جھونک کر گجرات اسمبلی انتخابات میں کامیابی کو کامیاب بناسکتی ہے مگر حقیقت میں عوام کے ووٹوں کو حاصل کرنے میں بی جے پی کس حد تک کامیاب ہوگی یہ گجرات انتخابی ووٹ فیصد کے بعد ہی معلوم ہوگا۔ راہول گاندھی کی تیز و تند تنقیدوں کے باوجود گجرات میں کانگریس کی کامیابی کے امکانات موہوم دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں سے وہ گذشتہ 3 دہوں سے کامیاب نہیں ہوئی ہے مگر اس مرتبہ عوام کے غصہ اور مخالف حکومت لہر کا فائدہ ضرور ہوگا۔ جی ایس ٹی پر بڑھتی ناراضگی سے اگر کانگریس فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تو اسے بھی اپنی ساری قیادت اور قائدانہ صلاحیتوں کو گجرات میں جھونک دینا ہوگا۔ جی ایس ٹی نے تو بی جے پی کیلئے چیلنج بھری فضا پیدا کردی ہے خاص کر مودی کیلئے گجرات کی فضاء موافق نظر نہیں آتی۔ اگر نریندر مودی اپنی ہی آبائی ریاست میں اپنے سحر کا جادو چلانے میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر سارے ملک میں ان کا سحر سرد پڑجائے گا۔ جیسا کہ بی جے پی کی حلیف پارٹیوں میں سے بعض کا کہنا ہیکہ گجرات میں مودی کی شکست کا مطلب سارے ہندوستان میں زوال کی شروعات سمجھا جائے گا۔ اس لئے نریندر مودی نے گجرات اسمبلی انتخابات کو 2019ء کے لوک سبھا انتخابات کی طرح مقابلہ کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ اس ریاست میں ذرا سی بھی غفلت کا مطلب مودی کے زوال کی شروعات سمجھا جائے گا۔ بی جے پی کے اندر اور بیرونی خطرات نے پارٹی قیادت کو چکرا کر رکھا ہے۔ یہ لوگ جدھر جارہے ہیں جی ایس ٹی کے بارے میں ہی سوال کررہے ہیں۔ سیاسی منظرنامہ واضح ہوتا جارہا ہے اور بی جے پی کا سیاسی مستقبل ہر گذرتے دن کے ساتھ جی ایس ٹی کے دھند میں ڈدوبتا نظر آئے گا۔ ایک تاثر یہ بھی ہیکہ بی جے پی نے کچھ سیاسی طاقتوں کے ساتھ ڈبل گیم شروع کیا ہے۔ جیسا کہ بی جے پی کا ایک ٹولہ ہندوستان کی تاریخی عمارتوں اور مغل شہنشاہوں کے بارے میں اشتعال انگیز بیانات دے رہا ہے۔ تاج محل کو شیومندر کہا جانے لگا ہے تو دوسری جانب بی جے پی قیادت کی ہدایت پر چیف منسٹر یوپی کو تاج محل کا دورہ کرواکر وہاں جاروب کشی کروائی گئی۔ ٹیپوسلطان کو انگریزوں کے ساتھ لڑتے ہوئے ہیرو کی طرح شہید ہونے کا اعتراف کیا گیا۔ یعنی بی جے پی کی ایک طرح سے یہ اعتراف شکست بھی ہے۔ الغرض بی جے پی اور اس کی اعلیٰ قیادت گجرات کے اسمبلی انتخابات تک خواہش، افواہ اور اطلاع کے درمیان اندازے اور توقعات کی تشہیر کا سہارا لے کر کام کرے گی۔
معاشی ترقی پر عالمی رپورٹ
ہندوستان میں اب تجارت کرنا مشکل ہوگا یہ سوال ہر ابھرتے تاجر کے ذہن میں پیدا ہورہا ہے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کے معاشی اصلاحات نے ہندوستانی تاجروں کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاروں کو انتظار کرو دیکھو کے موقف میں کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں عالمی بینک کی جانب سے سال 2018ء کی ایک سالانہ ’’تجارت‘‘ پر رپورٹ پیش کی جانے والی ہے، جس میں تمام ملکوں کے تجارتی ماحول کا احاطہ کیا جائے گا۔ دنیا بھر کے 190 ملکوں میں چھوٹے اور متوسط فرمس کی تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیکر رپورٹ تیار کی جائے گی۔ اس عالمی بینک کی رپورٹ کی بنیاد پر عالمی سرمایہ کار ہندوستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں فیصلے کریں گے۔ ہندوستانی تجارتی معیارات کے مطابق توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اس مرتبہ ہندوستان کی ترقی کی شرح میں بہتری آئے گی۔ دنیا بھر کے 50 ملکوں کی فہرست میں ہندوستان کو شمار کیا جائے گا۔ اس سال کی عالمی بینک کی رپورٹ کی اساس پر ہی ہندوستان کے سیاستداں اور سرکاری عہدیدار معاشی ترقی کا سہرا اپنے سر لینے کی کوشش کریں گے اور رپورٹ کے منفی ہونے پر ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈال دیں گے۔ اس وقت مرکز کی حکمراں پارٹی وزیراعظم کے معاشی اصلاحات، اقدامات کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔ درحقیقت بی جے پی کے حلقے اپنے شدید سیاسی امکانات کو لیکر فکرمند بھی ہیں کیونکہ حالیہ مہینوں میں ہندوستانی معاشی ترقی میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ وزیراعظم مودی کی آبائی ریاست گجرات میں چھوٹے اور متوسط تاجر پریشان ہیں۔ گجرات کو ایک غریب ریاست نہیں سمجھا جاتا لیکن اب اس ریاست کا تاجر پریشان ہے تو مودی کو تنقیدوں کا سامنا ہے کہ ان کے معاشی فیصلوں سے ہی تجارت درہم برہم ہورہی ہے۔ بینکوں سے بھی گجرات کے تاجروں کو قرض نہیں مل رہا ہے اور یہ صورتحال سارے ملک میں دیکھی جارہی ہے۔ اس ماہ کے ختم تک عالمی رپورٹ آتی ہے تو اس رپورٹ کی بنیاد پر ہندوستان کی معاشی صورتحال کا اندازہ کرتے ہوئے عالمی سرمایہ کار اپنا قدم اٹھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT