Friday , February 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گدوال کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ

گدوال کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ

ضلع سادھنا سمیتی کے زیر اہتمام بندمکمل کامیاب
گدوال /30 ستمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گدوال کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ لے کر آج کل گدوال میں ضلع سادھنا سمیتی کے زیر اہتمام گدوال مکمل بند منایا گیا ۔ گدوال کے تمام اسکولس و کالجس اور سرکاری دفاتر بنکس بس ڈپو مکمل طور پر بند کرایا گیا ۔ تجارتی کاروبار بھی خود تجارت کرنے والے بند کرکے ضلع بنانے کے ضمن احتجاج کیا اور بند میں شامل ہوگئے ۔ اس بند کے اندر تمام پارٹی کے ذمہ داران شرکت کئے ۔ رکن اسمبلی محترمہ ڈی کے ارونا ایک ریالی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بند شروع کا حصہ ہے ۔ ضلع بننے تک یہ احتجاج جاری رہے گا اور اسمبلی میں اس  مسئلہ کو لے کر حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا ۔ ضلع سادھنا سمیتی کے صدر انجینیلو اڈوکیٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو آزادی ملنے کے بعد پہلے پارلیمنٹ الیکشن میں گدوال اور محبوب نگر ہی کو پارلیمنٹ کنیٹوشن بناکر ممبر پارلیمنٹ کی حیثیت سے منتخب کئے گئے تھے جبکہ یہاں پر سہولتیں مکمل دستیاب ہیں اور ہر قسم کی ضرورتوں کیلئے آسانیاں ہیں ۔ انہوں کہا کہ یہاں پر پانی کی سہولتیں کافی ہیں اور ریلوے جنکشن موجود ہے ۔ جس کی زمین 100 ایکر ہے ۔ اسی طرح ضلع کیلئے آفسوں کی تعمیر کیلئے سرکاری کافی مقدار میں ہے ۔ صرف گدوال نیشنل ہائی وے سے 15 کیلومیٹر دوری پر ہے ۔ گدوال مقام کے اعتبار سے رائچور محبوب نگر اور کرنول کے بیچوں بیچ سنٹر میں ہوتا ہے ۔ اس طرح ضلع بننے کیلئے جتنے چیزوں کی ضرورت ہے وہ سب گدوال میں موجود ہیں ۔ اس بند میں چیرمین گدوال بنڈلہ پدماوتی ، عبدالسلام ، ناگراج ، وینوگوپال ، محمد امتیاز ، ایم اے پاشاہ ، ہر پارٹی کے لیڈرس ، اقلیتی سماجی کارکن جناب عبدالوحید بندگی اور دیگر نے شرکت کی ۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT