Sunday , July 22 2018
Home / ہندوستان / گذشتہ تین برسوں میں 280 کشمیری نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے : جموں وکشمیر حکومت

گذشتہ تین برسوں میں 280 کشمیری نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے : جموں وکشمیر حکومت

جموں۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر حکومت کے مطابق وادی کشمیر میں گذشتہ تین برسوں کے دوران 280 نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جنہوں نے وزارت داخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے ، نے اسمبلی میں نیشنل کانفرنس رکن و جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ‘گذشتہ تین برسوں میں 280 نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔
انہوں نے کہا ہے ‘2015 میں 66، 2016 میں 88 اور 2017 میں 126 نوجوانوں نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ‘۔ حکومتی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ وادی میں 8 جولائی 2016 ء کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک قریب دو سو مقامی نوجوانوں نے بندوقیں اٹھاکر جنگجو تنظیموں بالخصوص حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں محترمہ مفتی نے کہا ہے کہ اس وقت ریاست کے مختلف جیلوں میں 2694 قیدی مقید ہیں۔

مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کو مستقل شہریت دینے کا منصوبہ نہیں
جموں۔ 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر حکومت نے کہا کہ جموں میں مقیم مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کو ریاست کی مستقل شہریت دینے کا کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے ۔ریاست میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف و بازآبادکاری کے وزیر جاوید مصطفی میر نے اسمبلی میں بی جے پی رکن گگن بھگت کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا ‘1947 کے پاکستان زیر قبضہ کشمیر کے تارکین وطن اور 1965 و 1971کے چھمب کے تارکین وطن کے برعکس مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں کو ریاست کی مستقل شہریت نہیں دی گئی ہے’۔
انہوں نے کہا ‘ انہیں ریاست کی شہریت دینے کا فی الوقت کوئی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے ‘۔ وزیر موصوف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ حکومت ہندوستان نے پاکستان زیر قبضہ کشمیر اور چھمب کے 36 ہزار 384 تارکین وطن کنبوں کی یک وقتی بازآبادکاری کے لئے 2 ہزار کروڑ روپے منظور کئے ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT