Thursday , April 19 2018
Home / Top Stories / گذشتہ چار سال سے ملک کا ماحول کشیدہ ‘ ذمہ داران کی خاموشی باعث تشویش

گذشتہ چار سال سے ملک کا ماحول کشیدہ ‘ ذمہ داران کی خاموشی باعث تشویش

جمیعۃ العلما کی قومی یکجہتی کانفرنس ۔ مولانا سید ارشد مدنی ‘ مسٹر رام پنیانی ‘ محمد محمود علی اور محمد علی شبیر و دوسروں کا خطاب

حیدرآباد ۔ 7 اپریل (سیاست نیوز) ملک کے دستور کی ترتیب میںجمعیت علماء ہند کا اہم رول رہا ہے۔ اکابرین جمعیت نے گاندھی جی ‘پنڈت نہرو‘ سردار پٹیل سے نمائندگی کرکے ملک کے دستور کو سکیولر ڈھانچے پر ترتیب دینے زور دیا اور ا س میں کامیاب بھی رہے ‘ اگر جمعیت اس حساس معاملے میںکوتاہی سے کام لیتی تو آج مسلمان امن وسکون کے ساتھ ملک میںزندگی گذار نہیںسکتا تھا ‘ آج تمام مذہب کے لوگ بالخصوص اقلیت جس میںمسلمانوں کے بشمول عیسائی‘ سکھ اور دیگر طبقات شامل ہیں سکیولر دستور کی وجہہ سے امن سکون کی زندگی گذاررہے ہیںمگر گذشتہ تین چار سال میںجس قسم کا ماحول او رحالات پیداکئے جارہے ہیں اس پر ذمہ داران کی خاموشی سکیولر دستور کی تباہی کا سبب بن جائے گی اور ہم دستور ہند کو بچانے میں ناکام ہوجائیں گے ۔آج جمعیت علماء ہند کی ہاکی میدان مانصاحب ٹینک پر قومی یکجہتی کانفرنس سے صدراتی خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیت علماء ہند وجنرل سکریٹری مولانا سید ارشد مدنی نے ان خیالات کا اظہار کیا۔قاری عبدالہادی کی قرات کلام پاک سے آغاز ہوا اور نعت رسول کا نذرانہ مولانا مجیب الدین قاسمی نے پیش کیا۔ تاریخ داں وسماجی جہدکار رام پنیانی ‘ سوامی ستیا نند سوامی ممبئی ‘ڈپٹی چیف منٹسر الحاج محمد محمودعلی‘ اپوزیشن لیڈر کونسل محمد علی شبیر‘ صدر جمعیت علماتلنگانہ وآندھرا پردیش مولانا غیاث الدین رحمانی‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘مولانا حامد محمد خان صدر جماعت اسلامی تلنگانہ واوڈیشہ جناب غیاث الدین رشادی مولانا محمد بانعیم المظاہری‘ مولانا ابرارالحسن نے بھی خطاب کیا۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ آزادی کی تاریخ سے ملک کے بے شمار لوگ واقف نہیںہیں۔ سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کو جہاد کافتوی ٰ 1803میںجمعیت کے اکابرین نے دیا ۔

درالعلوم دیوبند کی بنیادیں جس مقصد سے قائم کی گئی ہیںاس میںایک اہم مقصد ملک کے جمہوری نظام کو قائم رکھنے کے ساتھ مجاہد ین جنگ آزادی کی نسلوں کو انگریزوں کی سیاست کے چنگل سے بچانا تھا اور اس میں اکابرین جمعیت کامیاب ہوئے ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ فسطائی طاقتیں مدرسوں کو نشانہ بنارہی ہیںاگر مدرسوں کے ذمہ داران اس ضمن میں آگے بڑھ کر یہ نہیںبتائیںگے ان کے مدرسوں میںاخلاقیات اور وطن سے محبت کی تعلیم دی جاتی ہے تو آنے والے دنوں میںمدرسوں پرپڑھنے والی بری نظر سے مقابلہ ممکن نہیںہے۔ مولانا مدنی نے جمعیت علماء کی جانب سے آسام میں سازش کے تحت پیدا کئے گئے شہریت کے مسئلے اور ہندوستان بھر بالخصوص شمالی ہند میںفرضی مقدمات میں ماخوذمسلم نوجوانوں کی رہائی کے متعلق جمعیت کی مہم کا ذکر کیا ۔ انہو ںنے بہار کے سیلا ب زدہ گان کیلئے نئے مکانات کی تعمیر کے متعلق بتایا کہ جمعیت علماء ہند نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی ہے اور اس ضمن میںہم نے بہار کے سیلاب زدگان کیلئے نئے مکانات کی تعمیر میں غریب جن خاندانوں کا فہرست تیار کی ہے اس میںغیرمسلم بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ فسطائی طاقتیں ملک کو ہندو مملکت بنانے کی خواہاں ہیںمگر انہوں نے نہیںدیکھا کہ ملی جلی آبادی میں ایک نظریہ کی سونچ کو فروغ دینے کی کوشش دوسری تقسیم کی طرف انہیں لئے جائیںگی۔

انہوں نے کہاکہ دستور ہند نے مسلمانوں کو بھی اس ملک پر اتنا حق دیا ہے جتنا دیگر اقوام ہے ۔ مسٹر رام پنیانی نے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کے حوالوں سے بتایا کہ ملک کی پہلی جنگ آزادی میں دیگر کے ساتھ بہ نفسہ نفیس اورنگ زیب عالمگیر ؒ شامل تھے۔ انہو ںنے کہاکہ تقسیم ہند کے وقت جب حالات ابتر ہوگئے تو فساد کو روکنے اس وقت کے وزیراعظم پنڈت نہرو اپنی گاڑی میں بیٹھ بنامحافظین کے دستے کے سڑک پر اتر گئے اور فساد رکنے تک سڑک پر گھوم کر لوگوں کو مارکاٹ سے روکنے کاکام کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے بے شمار مثالیںہیں ۔ مسٹر رام پنیانی نے کہا کہ نفرت کا ماحول پیدا کیاجارہاہے تاکہ تقسیم کے ذریعہ اپنے اقتدار کوبچایاجاسکے اور یہ تقسیم کی سیاست انگریزوں کی دین ہے۔مسٹر رام پنیانی نے کہا کہ جتنے بھی مسلم بادشاہ تھے ان کے دربار میںاعلی منصبوں پر غیر مسلم تھے جبکہ جتنے بھی غیرمسلم حکمران تھے ان کے پاس سب سے وفاد ر اور ایماندار ملازمین میںمسلمانوں کا شمار تھا اس کے باوجود تاریخ کے متعلق غلط بیانی کرکے اکبر بادشاہ کو ہندئوں کادشمن اور شیواجی کو مسلمانوں کادشمن قراردینے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔ جناب محمد محمودعلی نے مولانا ارشد مدنی کی تلنگانہ میںآمد پر استقبال کیا ۔ انہو ںنے کہاکہ تلنگانہ میںگنگاجمنی تہذیب کی کئی مثالیںموجود ہیں۔ انہوں نے قطب شاہی اور آصف جاہی دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ حکومت بالخصوص چیف منسٹر چندرشیکھر رائو مسلمانوں کے ماضی کا احیاء عمل میںلانے کی تمام کوششوں کو عملی جامعہ پہنانے کاکام کررہے ہیںاور اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر ایک مسلمانوں کو باوقار ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے پر فائز کیاہے۔ محمد علی شبیر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت کی پہل کو عظیم کارنامہ قراردیااو رکہاکہ کانگریس پارٹی قومی یکجہتی کی اس مہم میںجمعیت علماء کا ہر محاذ پرتعاون کریگی۔آخر میںمولاناسید ارشد مدنی کے دعائے کلمات پر کانفرنس کا اختتام عمل میںآیا۔

TOPPOPULARRECENT