Monday , June 18 2018
Home / شہر کی خبریں / گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے 40 فیصد بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ

گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے 40 فیصد بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ

سرپنچوں کے چیک پاور کو سلب کرنے والا جی او واپس لینے حکومت پر زور

سرپنچوں کے چیک پاور کو سلب کرنے والا جی او واپس لینے حکومت پر زور
حیدرآباد ۔ 9 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پنچایت راج چیمبر قائدین نے ریاست میں برسر اقتدار ٹی آر ایس حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جی او ایم ایس نمبر 278 کو منسوخ کرتے ہوئے سرپنچوں کے چیک پاور کے حسب سابق جی او پر عمل آوری کو برقرار رکھتے ہوئے ریاستی بجٹ میں سے 40 فیصد بجٹ کو گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے مختص کیا جائے بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے منظم کرنے کے علاوہ ریاست کے تمام کلکٹریٹس کا گھیراؤ اور چلو حیدرآباد پروگرام منظم کیا جائے گا ۔ آج یہاں صدر تلنگانہ پنچایت راج چیمبر مسٹر چمپولا ستیہ نارائنا ریڈی اور جنرل سکریٹری تلنگانہ پنچایت راج چیمبر مسٹر بی سدھارتھ نے منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 14 سال کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی ریاست تلنگانہ کو ’ سنہرے تلنگانہ ‘ میں تبدیل کرنے کے متمنی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقتدار کی گدی سنبھالتے ہی گرام پنچایتوں کی ترقی کے لیے فنڈس کی اجرائی کی بجائے سرپنچوں کو دئیے گئے چیک پاورس کو سلب کرنے سے متعلق جی او ایم ایس نمبر 278 جاری کرتے ہوئے مواضعات کی ترقی میں روکاٹ پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مواضعات کی عوام کی جانب سے منتخبہ عوامی نمائندے سرپنچوں ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان فنڈس کی عدم موجودگی کے علاوہ دیگر کئی مسائل سے دوچار ہیں جن کی یکسوئی ایک چیالنج بنا ہوا ہے ۔ انہوں نے حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ سرپنچوں کے چیک پاور کے اختیارات کے جی او کو برخاست کرتے ہوئے سرپنچوں کی عزت و نفس سے کھلواڑ کرتے ہوئے ان کے وقار کو متاثر کرنے کی کوشش کررہی ہے جو ایک انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سرپنچوں کو چیک پاور کے اختیارات کے سلسلہ میں طویل جدوجہد کے بعد سال 1996 ء میں اس وقت کے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے جی او جاری کیا تھا لیکن آج چیف منسٹر تلنگانہ نے اس جی او کو منسوخ کرتے ہوئے نئے جی او کی اجرائی عمل میں لائی ہے جس میں سرپنچوں کو چیک پاور سے محروم کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں مواضعات میں موجود گرام پنچایتوں کے حدود میں ترقی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گرام پنچایتوں کو دئیے جانے والے فنڈس عوام کو درکار بنیادی سہولتیں جیسے پینے کے پانی کی سربراہی ، اسٹریٹ لائٹس ، صفائی کے لیے ہی ناکافی ہیں جب کہ اس فنڈ میں سے گرام پنچایتوں کے برقی بلس کی ادائیگی سے متعلق حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جی او نمبر 278 سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے اس جی او کی منسوخ کا اعلان کرتے ہوئے سرپنچوں کو چیک پاور کے حسب سابق طریقہ کار کو برقرار رکھنے کے علاوہ سرپنچوں ، ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان ایم پی پی کو درپیش مسائل کی یکسوئی میں اپنا بھر پور تعاون کریں تاکہ ریاست تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ میں تبدیل کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے ۔ اس موقع پر تلنگانہ پنچایت راج چیمبر ریاستی قائدین مسرز ایم پرشوتم ریڈی ، اشوک راؤ ، اے بابیا ، پی بی سری سیلم ، جی کمار ، نرسنگ راؤ ، بھیم ریڈی ، مدھو سدن گپتا بھی موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT