Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گرام پنچایت انتخابات بیالٹ پیپر کے ذریعہ کردیا جائے

گرام پنچایت انتخابات بیالٹ پیپر کے ذریعہ کردیا جائے

حکومت پر سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والوں کی ہمت افزائی کا الزام، اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ /18 جنوری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے بیالٹ پیپر کے ذریعہ گرام پنچایتوں کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ۔ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کی حوصلہ افزائی کیلئے پنچایتوں کے بالواسطہ انتخابات کرانے کی سازش تیار کرنے کا حکومت پر الزم عائد کرتے ہوئے /23 جنوری سے ریاست بھر میں اس کے خلاف تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پنچایت راج کی نئی قانون سازی کا جائزہ لینے کیلئے اتم کمار ریڈی کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس میں قائدین اپوزیشن کے جاناریڈی (اسمبلی) محمد علی شبیر (کونسل) ورکنگ پریسیڈنٹ بٹی وکرامارک سابق صدور پردیش کانگریس کمیٹی وی ہنمنت راؤ ۔ پنالہ لکشمیا سکریٹری اے آئی سی سی جی چناریڈی رکن اسمبلی جیون ریڈی ۔ ارکان قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی ۔ دامودھر ریڈی نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ، عابد رسول خان جنرل سکریٹری ، ایس کے افضل الدین ، سید عظمت اللہ حسینی ، محمد مقصود احمد ، عظمی شاکر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ ، محمد خواجہ فخرالدین کے علاوہ دوسرے قائدین نے شرکت کی ۔ اجلاس میں پنچایت راج کی نئی قانون سازی کا جائزہ لیا گیا ۔ مختلف قائدین نے اپنی اپنی رائے پیش کی ۔ بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے کہا کہ دوسری جماعتوں سے کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرنے والی تلنگانہ حکومت آئندہ ماہ فبروری میں گرام پنچایت کے انتخابات کرانے کی تیاری کررہی ہے ۔ موجودہ پنچایت راج قانون میں ترمیم کرتے ہوئے گرام پنچایتوں کے انتخابات میں کامیابی کیلئے پچھلے دروازے سے نظم و نسق میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔ اس لئے حکومت سرپنچ اور وارڈ ممبرس کے انتخابات علحدہ علحدہ کرانے کے بجائے بالراست کرنے کی تیاری کررہی ہے تاکہ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کیلئے حوصلہ افزائی کی جاسکے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور موجودہ سسٹم کے تحت ہی بیالٹ پیپرس کے ذریعہ گرام پنچایت کے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ عوامی اعتماد سے محروم ہوجانے والی ٹی آر ایس حکومت اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے جمہوری نظام کو تہس نہس کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے اپنے دور میں گرام پنچایتوں کے تمام اختیارات چھین لیئے ۔ انہیں کوئی آزادی نہیں دی یہاں تک کہ مرکزی حکومت اور فینانس کمیشن کے تحت جو فنڈز حاصل ہوئے تھے اس کو بھی برقی بلز کی ادائیگی کیلئے استعمال کرلیا گیا ۔ سرپنچوں کے تمام اختیارات چھین لینے کا اعزاز تلنگانہ حکومت کو حاصل ہے ۔ سرپنچس کے راست انتخابات کرانے کی صورت میں عوامی ناراضگی کے خوف سے چیف منسٹر بلواسطہ انتخابات کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل یا ارکان پارلیمنٹ کی خرید و فروخت کیلئے جو پالیسی اپنائی گئی تھی وہی پالیسی گرام پنچایتوں کیلئے لاگو کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ پنچایت راج کی نئی قانون سازی کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ گرام پنچایتوں کے راست انتخابات کرانے کا حکومت پر دباؤ بنانے کیلئے 23 تا 30 جنوری تک سارے تلنگانہ میں احتجاجی مظاہرے کرانے اور تحصیلداروں کو یادداشتیں پیش کرنے اور /30 جنوری کو کلکٹرس کو یادداشتیں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT