Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / گرداس پور دہشت گرد حملہ کے اہم ثبوت دستیاب

گرداس پور دہشت گرد حملہ کے اہم ثبوت دستیاب

پاکستانی محکمہ نے 26 نومبر کے حملے کی مناسب تحقیقات نہیں کیں:حکومت ہند

نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) اگر ہندوستان اور پاکستان کے مشیران قومی سلامتی کی بات چیت گزشتہ ہفتہ ہوئی ہوتی تو ہندوستان نے 10 اہم ثبوت گرداس پور حملے کے بارے میں پیش کئے ہوتے جن سے ثابت ہوجاتا کہ تین فدائی عسکریت پسند سرحد پار سے تعلق رکھتے تھے۔ ہندوستان نے پاکستان سے کہا ہوتا کہ ان میں سے دو افراد جن کے جوتے اس مقام سے دستیاب ہوئے جہاں مہلوک دہشت گرد پر ’’چیتے‘‘ کے نشانات پائے گئے۔ یہ ایک مقبول برانڈ ہے جو وہاں دستیاب ہے۔ پنجاب پولیس نے وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جوتے کی جوڑی پر اس برانڈ کے نشانات پائے گئے جو دو دیگر عسکریت پسندوں نے پہن رکھے تھے۔ انہیں گھس کر صاف کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان پر روشنائی بھر دی گئی تھی تاکہ پاکستان سے کسی ربط کو پوشیدہ رکھا جاسکے۔ رپورٹ کے بموجب ڈیوراسیل برانڈ بیاٹری ترقی یافتہ دھماکو آلات سے حاصل کی گئی جو عسکریت پسندوں نے ایک ریلوے پل پر نصب کئے تھے لیکن یہ آلات پھٹ نہیں سکے۔ ان پر ایک خاص قسم کا نشان موجود تھا جو ہندوستان میں دستیاب نہیں ہے۔ آزاد ماہرین نے دو جی پی ایس آلات کا تجزیہ کیا ہے، جو مقتول دہشت گردوں کے پاس سے دستیاب ہوئے تھے جنہوں نے 27 جولائی کو گرداس پور میں 7 افراد کا قتل کیا تھا۔ ماہرین نے 21 جولائی کو پتہ چلایا کہ جی پی ایس ہم آہنگ پاکستان کے علاقہ سرگودھا میں کنال روڈ پر شاہ پور۔ ساہی وال روڈ کے قریب دیکھے گئے تھے۔ یہی مقام ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان عسکریت پسندوں کے ہندوستان میں داخلے کا مقام تھا، لیکن ان کے داخلے کی تاریخ کا پتہ نہیں چل سکا۔ ماہرین نے فیصلہ کن انداز میں پتہ چلایا ہے کہ جی پی ایس 2 سے پاکستان میں موجودگی کا پتہ چلتا ہے۔

ہندوستان نے منصوبہ بنایا تھا کہ پاکستانی مشیر قومی سلامتی سرتاج عزیز سے کہہ دیا جائے گا کہ تینوں عسکریت پسند دریائے راوی تاش کے قریب پار کرکے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ مقتول دہشت گردوں کا پوسٹ مارٹم ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے کیا تھا۔ کوئی بھی لیبل یا ٹیاگ ان کے کپڑوں پر سے دستیاب نہیں ہوا تھا۔ صرف تین دہشت گردوں میں سے ایک کے دستانوں پر سے نشانات مٹا دیئے گئے تھے تاکہ شناخت پوشیدہ رکھی جائے۔ ان دستانوں پر میڈ اِن پاکستان کا ٹیاگ تھا۔ راکٹ لانچر بھی حملہ آوروں کے پاس سے دستیاب ہوا جس پر یوگوسلاویہ ؍ چیک جمہوریہ کے نشانات تھے جبکہ فارنسک تجزیہ سے جو کارتوسوں کا کیا گیا تھا، پتہ چلا کہ یہ چین، روس، یوکرین اور جمہوریہ چیک میں تیار کئے گئے تھے۔ AK56 رائفلوں پر سے بھی نشانات مٹا دیئے گئے تھے، لیکن فارنسک تجزیہ سے پتہ چلا کہ یہ رائفلیں چینی ساختہ تھیں۔

26/11 حملے کی تحقیقات میں کوتاہیاں
پاکستان کے مرکزی تحقیقاتی محکمہ نے جس نے 26/11 ممبئی دہشت گرد حملہ کی تحقیقات کی تھیں، انہوں نے اس میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید اور فوجی عہدیداروں کی تفصیلات نہیں تھیں جنہوں نے کولمین ہیڈلی کی مدد کی تھی تاکہ حملوں کی منصوبہ بندی کی جاسکے۔ ہندوستان کی جانب سے تیار کردہ معلومات جو پاکستان کو حوالہ کی جانی والی تھیں، آئی ایس آئی کے کردار کا واضح ثبوت موجود ہے، لیکن پاکستان کے مرکزی محکمہ سراغ رسانی کی تحقیقات میں ثبوتوں کے تسلسل کی تحقیقات مناسب انداز میں نہیں کی گئیں۔ اگر آئی ایس آئی کے کارکنوں کا تذکرہ نہ کیا جائے تو ایسا کرنا بہت مشکل بھی تھا۔

TOPPOPULARRECENT