Friday , April 20 2018
Home / شہر کی خبریں / گرمائی تعطیلات میں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گذارنے کی ضرورت

گرمائی تعطیلات میں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گذارنے کی ضرورت

غیر ضروری مقامات پر تیراکی سے بچوں کو بچایا جائے ، قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے
محمد علیم الدین
حیدرآباد 6 اپریل ۔ تعطیلات کا موسم دیگر موسموں سے علحدہ لطف اندوز اور بے فکری کا ہوتا ہے ۔ لیکن گرمائی تعطیلات کا یہ سیزن نہ صرف شہر بلکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے اور چھٹیاں منانے والے شہریوں کیلئے بھی ایک خطرناک پیغام اور خوفناک حالات کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور شہریوں کو باور کروانے کیلئے حالات کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے ۔ ایسے حالات کی جانب توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی تمنا کوئی اپنے دشمن کیلئے بھی نہیں کرتا ۔ جہاں گرمائی تعطیلات میں عام دنوں سے زیادہ توجہ اور چوکسی کی ضرورت ہے چونکہ تالاب اور باؤلیاں ان دنوں موت کے ٹھکانے بن گئے ہیں ۔ شہر و نواحی علاقوں کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے اضلاع میں گذشتہ دنوں پیش آئے واقعات اس کی نظیر بن کر سامنے آرہے ہیں ۔ ضلع نلگنڈہ اور ضلع میدک میں ایک ہی خاندان کے 5 پانچ افراد کی پانی میں غرقابی بالخصوص ضلع نلگنڈہ میں 5 کمسن بچوں کی موت اور ضلع میدک میں مستعدپورہ سبزی منڈی کے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت پر ہر شہری کے آنکھوں کی نمی کا سبب بن گئی تھی ۔ جبکہ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شہر حیدرآباد نواحی علاقوں میں 6 افراد بشمول ایک بالغ پانی میں غرقاب ہوگیا ۔ کل پہاڑی شریف کے علاقہ میں ایک تالاب میں 19 سالہ اکرام ساکن نوری نگر غرقاب ہوگیا ۔ پہاڑی شریف ، بنڈلہ گوڑہ ، غوث نگر ، نوری نگر ان علاقوں میں ایسے واقعات کے تدارک کیلئے پولیس نے کونسلنگ اور نوجوانوں اور کمسن بچوں کو پانی کی جانب جانے سے روکنے کے اقدامات کئے تھے جو وقتیہ ثابت ہوئے ایسے واقعات کیلئے شہری وقتیہ انہیں بلکہ سخت اقدامات کو پسند کرتے ہیں ۔ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ساڑھے تین سالہ سید واجد ساکن جگن گیری گٹہ ، ساڑے تین سالہ لڑکی مہالکشمی ساکن مائیلاردیوپلی ، گیارہ سالہ عثمان ساکن بالاپور 12 سالہ عبدالرشید ساکن رائے درگم 7 سالہ کرشنا ساکن کیسرا اور 10 سالہ سدھارتھ ساکن میاں پور پانی میں ڈوب کر فوت ہوگئے ۔ ان میں اکثر کوئی تالاب یا باؤلی نہیں گئے بلکہ تشویشناک بات تو یہ ہے کہ مکانات کے قریب سمپ اور باؤلی میں غرقاب ہوگئے ۔ اب جبکہ گرمائی تعطیلات کا موسم ہے اس میں تعطیلات گذارنے کا منصوبہ و پروگرام اکثر پہلے سے طئے کرلئے جاتے ہیں ۔ چھٹیاں منانے کوئی رشتہ دار کے یہاں جاتا ہے کوئی شہر کا رخ کرتا ہے تو کوئی دیہی علاقوں کو ترجیح دیتا ہے ۔ اکثر شادیاں بھی تعطیلات کے موسم میں انجام پاتی ہیں ۔ ان تعطیلات میں شدید گرمی کی تپش اور موسمی گرمی سے بچنے کیلئے پانی سے لطف اندوز ہونا ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے ۔ بالغ و نابالغ ہر کوئی چھٹیوں کا بھرپور مزہ لینے کی کوشش کرتا ہے اس دوران والدین اور سرپرست بھی ذرا بے فکر رہتے ہیں ۔ لیکن اب بے فکری کی سونچ کو بدلنے کا وقت آگیا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ چوکسی سے کام لینا پڑے گا ۔ تعطیلات سے لطف اندوز ہونا فطری عمل ہے بلکہ زندگی میں پرسکون ماحول کیلئے چھٹیاں منانا ضروری بھی ہے لیکن ماہرین و دانشوروں کا کہنا ہے کہ چھٹیاں احتیاط سے منائی جائیں اور پرلطف زندگی کیلئے سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنا وقت بچوں کے ساتھ گذاریں ان پرنظر رکھیں ان کے کھیل کود کا حصہ بنیں اور ان کی خوشی میں شامل ہوں جس سے ان کی تربیت بھی ممکن ہوگی اور ان کا تحفظ بھی یقینی ہوگا ۔ چونکہ کمسنی میں ناداں اقدامات دانستہ طور پر نہیں ہوتے لیکن اس کے نتائج پورے خاندان کیلئے بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں ۔ ایک طرف ان تعطیلات کو تفریح سے بھرپور لطف انداز اور بچوں کی تربیت کیلئے بھی بہترین ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ پولیس اور حکام کو چاہئے کہ وہ راتوں میں چبوترے پر بیٹھنے والے نوجوانوں کی تربیت کیلئے جس طرح کے سخت اقدامات کو انجام دے رہی ہے اس طرح تالابوں اور باولیوں کے مقامات پر جانے سے روکنے کیلئے اس طرح کے سخت اقدامات کریں اور شہر میں پائے جانے والے سوئمنگ پول کے ذمہ داروں کو بھی باور کرے کہ وہ کمسن بچوں کے داخلہ پر پابندی لگائے اور بغیر انسٹراکٹر سوئمنگ پول کو نہ چلائے ایسے اقدامات اموات کو لانے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT