Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / گرمائی دینی تعلیم کا نظم وقت کی اہم ضرورت

گرمائی دینی تعلیم کا نظم وقت کی اہم ضرورت

حافظ محمد صابر پاشاہ قادری

اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں کی تربیت کرنا والدین کا فرض ہے تاکہ بچوں کی عادات میں بچپن میں ہی اطاعت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوجائے اور وہ جوان ہوکر احکام الٰہی کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ انسانی زندگی کے لئے دنیوی خوشحالی کے علاوہ آخرت میں نجات کی بھی ضرورت ہے اس کے متعلق ارشاد ربانی ہے کہ :
’’اے ایمان والو ! تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ‘‘ ۔ ( سورۃ التحریم )
اس آیت میں یہی تاکید کی گئی ہے کہ اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ یعنی اپنی اولاد کی تربیت ایسی اخلاقی اور دینی بنیادوں پر کرو تاکہ برائیوں سے بچ جائیں اور نیکیوں کی طرف مائل رہیں ، اس طرح وہ آخرت میں دوزخ کی آگ سے خلاصی پائیں گے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی تربیت عمدہ طریقے سے کرنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے ۔
حضرت امام ربیعہؒ بہت بڑے مشہور محدث اور عالم گذرے ہیں جو حضرت امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ کے استاد تھے ۔ بچپن کے زمانے میں ان کے والد کسی سفر میں چلے گئے، چلتے وقت ربیعہ ؒ کی والدہ ماجدہ کو تیس ہزار اشرفیاں دے گئے تھے۔ حضرت ربیعہؒ کی والدہ نے اپنے بچے کی اچھی تعلیم اور اچھی تربیت کے لئے نیک عالموں اور بڑے بڑے محدثوں اور ادیبوں کے پاس بٹھایا اور بچے کی تعلیم و تربیت میں تیس ہزار اشرفیاں ختم کردیں۔ حضرت ربیعہؒ لکھ پڑھ کر فارغ ہوگئے تو ربیعہؒ کے والد بزرگوار ایک عرصہ کے بعد تشریف لائے تو بیوی سے دریافت کیا کہ وہ تیس ہزار اشرفیاں کہاں ہیں؟
بیوی نے کہا کہ بہت حفاظت سے رکھی ہیں ۔ پھر جب مسجد میں آئے تو اپنے بیٹے حضرت امام ربیعہؒ کو دیکھا کہ درس حدیث کی مسند پر بیٹھے ہیں اور محدثین کو درس دے رہے ہیں اور لوگ ان کو اپنا امام اور پیشوا بنائے ہوئے ہیں تو مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے ۔ جب گھر واپس تشریف لائے تو بیوی نے کہاکہ وہ تمام اشرفیاں تمہارے لخت جگر بیٹے حضرت بیعہؒ کی تعلیم پر خرچ ہوچکی ہیں ۔ آپ نے اب اپنے صاحبزادے کو دیکھ لیا ہے ۔ اب فرمائیے کہ آپ کی تیس ہزار اشرفیاں اچھی ہیں یا یہ دولت جو صاحبزادے کو حاصل ہوئی ہے ۔ تو وہ فرمانے لگے ۔ بخدا اس عزت کے مقابلے میں اشرفیوں کی کیا حقیقت ہے ۔ تم نے اشرفیوں کو ضائع نہیں کیا ۔

عام طورپر والدین کی تربیت کا عکس ان کی اولاد پر مرتب ہوتا ہے۔ حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا ؓ کی شخصیت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم نے ان کی کتنی بے مثال تربیت کی تھی۔ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ حضرت خاتون جنتؓ سب عورتوں سے بڑھ کر دانا تھیں۔ اندازۂ کلام ، حسن اخلاق اور وقار و متانت میں سرکار دوعالم ﷺ کے سوا ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ صالح تربیت کے ساتھ اولاد سے شفقت سے پیش آنا بھی والدین کے لئے ضروری ہے کیوں کہ اولاد پر رحم کرنا مسلمان ہونے کی نشانی ہے ۔ سرکاردوعالم ﷺ کا فرمان ہے جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT