Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / گریٹرحیدرآباد میں 85فیصدسڑکوں کی توسیع کا کام تعطل کا شکار

گریٹرحیدرآباد میں 85فیصدسڑکوں کی توسیع کا کام تعطل کا شکار

حیدرآباد18مارچ (سیاست نیوز)۔ حیدرآباد سائبرآباد ٹریفک پولیس،اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے توسیع کیلئے 85 فیصدسڑکوں کی نشاندہی کی ہے تاہم سیاسی و فنی وجوہات کے سبب توسیع کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ جبکہ میونسپل حکا م کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی توسیع کیلئے خانگی جائیدادوں کے حصول میں دشواری ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ توسیع سے مت

حیدرآباد18مارچ (سیاست نیوز)۔ حیدرآباد سائبرآباد ٹریفک پولیس،اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے توسیع کیلئے 85 فیصدسڑکوں کی نشاندہی کی ہے تاہم سیاسی و فنی وجوہات کے سبب توسیع کو یقینی نہیں بنایا جاسکا۔ جبکہ میونسپل حکا م کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی توسیع کیلئے خانگی جائیدادوں کے حصول میں دشواری ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ توسیع سے متاثرہونے والے جائیدادوں کیلئے معاوضے کی رقومات کی اجرائی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ سڑکوں کی توسیع سے متاثرہ افراد عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ کئی معاملات میں سڑک کی توسیع پرعدالت نے حکم التوا جاری کیا ہے۔ سڑکوں کی توسیع کے کام کا تعطل کا شکار ہونے کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے بیشترعلاقوں میں عوام کو ٹریفک مسائل کا سامنا ہے ۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہرکی سڑکیں اب تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہے۔ آئندہ تین سال میں گریٹرحیدرآباد کی آبادی دیڑھ کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔گریٹر حیدرآباد کے عوام ٹریفک مسائل پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ شہر سڑکوں پراس وقت 22 لاکھ سے زائدگاڑیاں چل رہی ہیں۔ ہرسال 70ہزار نئی گاڑیوں کا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ آندھرا پردیش روڈ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے مطابق ہرسال دو پہیوں کی گاڑیوں میں 14 فیصد ،چار پہیوں کی گاڑیوں میں 12 فیصد اور تین پہیوں کی گاڑیوں میں 10 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں صرف ایک کیلو میٹر فاصلہ پر7 سو 20 گاڑیاں چل رہی ہے۔ جبکہ ایک کیلو میٹر فاصلہ پرچینائی میں 2 سو 90 اورممبئی میں 2 سو 40 گاڑیاں چلتی ہے۔ حیدرآباد میں عوام کی جانب سے ذاتی گاڑیوں کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کی بیشتر سڑکوں پر ٹریفک جام معمول بن گیا ہے۔ مقامی لوگ حیدرآباد میں ٹریفک مسائل پرقابو پانے کی مانگ کررہے ہیں۔

ایس آر نگر کے رہنے والے محمد ذاکر نے بتایاکہ شہر کی اہم ترین سڑکوں پر ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اْنہوں نے بتایا کہ ایراگڈہ امیرپیٹ، خیریت آباد کی سڑکیں تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہیں۔ ملک پیٹ کے عبدالمنان نے بتایا کہ نلگنڈہ چوراہا سے چادر گھاٹ تک سڑک کی توسیع ناگریز ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ تنگ سڑک پر حیدرآباد میٹرو ریل اوربرقی کے تاروں کو زیر زمین کرنے تعمیراتی کام جاری ہیں تاہم ان کاموں سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک کی تنگ دامنی سے ہر روز مصروف اوقات میں ملک پیٹ سے چادر گھاٹ تک پہنچنے کا فی وقت لگ رہاہے۔محمد عقیل نامی ایک شہری نے بتایا کہ کوٹھی سے چادرگھاٹ جانے والی سڑک بھی تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہے ۔اس لئے مصروف اوقات میں اس سڑک پر ٹریفک جام معمول بن گیا ہے۔ ایک آٹو ڈرائیور نے بتایا کہ کوٹھی سے نامپلی جانے کے دوران جام باغ روڈ کی توسیع ضروری ہے۔ سڑک کی تنگ دامنی کے سبب ہرروزعوام کو ٹریفک مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آرٹی اے کے حکام کے مطابق گریٹر حیدرآباد میں لوگ ذاتی گاڑیوں پر سفر کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حکام نے حیدرآباد میں ٹریفک مسائل کی تین اہم وجوہات کی نشاندہی کی ہے۔ حکام کا کہناہے کہ گاڑیوں کی تعداد اورآبادی میں اضافہ کے بعد سڑکوں کی توسیع نہیں کی جارہی ہے۔ حکام کا کہنا ہیکہ مختلف محکموں کی جانب سے سڑکوں کی کھدائی سے بھی ٹریفک کی آمدو رفت میں خلل پڑ رہا ہے۔ آرٹی اے حکام نے دعویٰ کیاہے کہ گریٹر حیدرآباد میں مؤثر ٹریفک نظام کا فقدان ہے۔ حیدرآباد اور سائبرآباد میں پولیس کے 2ہزارٹریفک جوان خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ٹریفک جام پرقابوپانے کی بجائے یہ جوان چالانات پرتوجہ دیتے ہیں۔ آرٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس جوان ٹریفک مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں وقفہ وقفہ سے ٹریفک سگنل کا نظام مفلوج ہو جاتا ہے اس وجہ سے بھی ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT