Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / گریٹر الیکشن کی مدتِ انتخابی مہم بحال ، جی او عدالت میں معطل

گریٹر الیکشن کی مدتِ انتخابی مہم بحال ، جی او عدالت میں معطل

سیاسی جماعتوں کو راحت ۔بلدی ڈیویژنس کے ریزرویشن کی 9 جنوری تک قطعیت ، ہائیکورٹ کو ایڈوکیٹ جنرل کا تیقن

حیدرآباد۔/7جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد ہائیکورٹ کی جانب سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے الیکشن کی انتخابی مہم کی مدت کو بحال کرنے پر سیاسی جماعتوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ ہائی کورٹ نے انتخابی عمل 15دن میں مکمل کرنے سے متعلق حکومت کے احکامات معطل کرتے ہوئے سابقہ طریقہ کار کے مطابق 21تا 28دن میں انتخابی عمل مکمل کرنے ریاستی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے بلدی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے صرف 15دن میں انتخابی عمل مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس سے انتخابی مہم کی مدت گھٹ کر صرف 7 دن رہ گئی تھی۔ اس فیصلہ پر ماہرین قانون کی جانب سے بھی اعتراضات کئے گئے اور سیاسی جماعتوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی اور سابقہ طریقہ کار کو بحال کرنے کی ہدایت دی تاکہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم کیلئے مناسب وقت مل سکے۔ہائیکورٹ کی یہ ہدایات سابق کانگریس رکن اسمبلی ایم ششی دھر ریڈی کی جانب سے جی او کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ پی آئی ایل کی اساس پر سامنے آئی ہیں۔  واضح رہے کہ حکومت نے جی او جاری کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کی تھی جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی قانونی ترمیم کا اختیار ریاستی کابینہ یا اسمبلی کو ہے۔ حکومت نے ترمیم کیلئے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا اور محض جی او کی اجرائی سے قانونی ترمیم کرنا مروجہ طریقہ کار کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہائی کورٹ نے ترمیم کی مخالفت کرنے والے وکلاء کی رائے قبول کرتے ہوئے حکم التواء جاری کیا۔ عدالت کو ایڈوکیٹ جنرل نے یقین دلایا کہ ریاستی حکومت بلدی وارڈس کیلئے ریزرویشن کو 9 جنوری تک قطعیت دے گی۔ لہذا پولنگ ممکنہ طور پر 9 فروری کو منعقد کی جائے گی۔ ہائیکورٹ کو سنکرانتی کی تعطیلات کے بعد مذکورہ ترمیم کیلئے حکومت کے اختیار پر سماعت کا آغاز ہوگا۔ محض 15دن میں انتخابی عمل کی تکمیل کے فیصلہ نے اپوزیشن جماعتوں کو پریشانی میں مبتلاکردیا تھا کیونکہ انہیں انتخابی منشور کی تیاری اور امیدواروں کے انتخاب کیلئے وقت درکار ہوتا ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے یہ اُمور ابھی ابتدائی مرحلہ میں ہیں۔ کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی اور بعض دیگر جماعتوں نے انتخابی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جنہیں درخواستوں کی وصولی اور ان کی جانچ کی ذمہ داری دی گئی جبکہ گریٹر انتخابات کیلئے علحدہ انتخابی منشور کیلئے دوسری کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔ یہ دونوں اُمور یقیناً اپوزیشن جماعتوں کیلئے کسی آزمائش سے کم نہیں کیونکہ ٹی آر ایس نے شہر میں ترقیاتی کاموں کے افتتاح اور سنگ بنیاد کا جو سلسلہ شروع کیا ہے وہ کسی سیلاب سے کم نہیں۔روزانہ وزراء کئی اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرتے ہوئے کروڑہا روپئے مالیتی ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کرکے رائے دہندوں پر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ صرف ٹی آر ایس سے ہی شہر کی ترقی ممکن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محفوظ حلقوں کے اعلان میں تاخیر نے بھی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو تجسس میں مبتلاء کردیا ہے۔ چونکہ ڈیویژنس محفوظ یا جنرل ہونے کے بارے میں منظر ابھی صاف نہیں لہٰذا امیدواروں کے انتخاب میں دشواری کا سامنا ہے اور پھر خواہشمند قائدین بھی حلقوں کے تعین کے سلسلہ میں اُلجھن کا شکار ہیں۔ جب تک محفوظ حلقوں کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آجاتیں اسوقت تک سیاسی جماعتیں اور ٹکٹ کے خواہشمندوں میں تجسس برقرار رہے گا۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹی آر ایس نے گریٹر حیدرآباد میں کامیابی کے مقصد سے جان بوجھ کر اس طرح کی حکمت عملی تیار کی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو لمحہ آخر تک اُلجھاکر رکھا جائے تاکہ وہ انتخابات کی مؤثر انداز میں تیاری سے قاصر رہیں۔ پارٹی کے ایک قائد نے اعتراف کیا کہ انتخابی عمل کی تکمیل کی مدت میں کمی اور محفوظ حلقوں کے اعلان میں تاخیر دراصل حکومت کا مائنڈ گیم ہے تاکہ اپوزیشن کو اُلجھا کر رکھا جائے۔ اس صورتحال نے اپوزیشن جماعتوں کو روزانہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کیلئے مجبور کردیا ہے۔ محفوظ حلقوں کے اعلان میں تاخیر کے سبب نہ صرف پارٹیاں بلکہ خواہشمند امیدوار اور رائے دہندے بھی اُلجھن کا شکار ہیں۔ رائے دہندوں کو اس بات کی فکر ہے کہ ان کے حلقہ کو اگر محفوظ قرار دیا جائے تو پھر کون امیدوار ان کیلئے موزوں رہے گا۔ دوسری طرف ٹکٹ کے خواہشمند درخواست کے ادخال کے وقت اپنے پسندیدہ حلقہ کی نشاندہی میں دشواری محسوس کررہے ہیں کیونکہ اگر وہ کسی ایک حلقہ کیلئے درخواست داخل کریں اور وہ محفوظ قرار دیا جائے تو ان کی درخواست از خود مسترد ہوجائیگی۔ یہ تاخیر ٹکٹ کے خواہشمندوں پر مالیاتی بوجھ کا سبب بن رہی ہے کیونکہ ہر درخواست کے ساتھ صرف ایک ہی حلقہ کی نشاندہی کرنا ہے اور ہر درخواست کیلئے معقول رقم بطور ڈپازٹ جمع کرنی ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ محفوظ حلقہ کے سلسلہ میں اپوزیشن جماعتوں کو امیدواروں کے تعین میں دشواری ہوسکتی ہے ۔لہذا اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ جلد سے جلد الیکشن کمیشن محفوظ حلقوں کی فہرست جاری کردے تاکہ امیدواروں کے انتخاب میں مدد مل سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ترقیاتی کاموں کے آغاز کی مہم مزید چند دن تک جاری رکھنے کیلئے حکومت نے ٹی آر ایس کو موقع فراہم کیا ہے جو عملاً پارٹی کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔ گریٹر حیدرآباد میں صرف ٹی آر ایس نے باقاعدہ طور پر انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے جبکہ دیگر جماعتیں ابھی حکمت عملی کی تیاری اور امیدواروں کے انتخاب کے ابتدائی مرحلہ میں ہیں۔ اس طرح برسراقتدار پارٹی نے اپوزیشن کو اُلجھا کر رکھنے کی حکمت عملی تیار کی ،جو ان کے قائدین کے مطابق کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ محفوظ حلقوں کے اعلان کے فوری بعد انتخابات کا اعلامیہ جاری کردیا جائے گا جس کے بعد کسی کو عدالت سے رجوع ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT