Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / گریٹر انتخابات :مقامی جماعت میں ناراض سرگرمیاں عروج پر

گریٹر انتخابات :مقامی جماعت میں ناراض سرگرمیاں عروج پر

کانگریس اور تلگو دیشم کی طرف نظریں، بی جے پی بھی سرگرم، غیر متوقع نتائج کا امکان
حیدرآباد۔ 4 ۔جنوری ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کا اعلامیہ کسی بھی وقت جاری ہوسکتا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کا عملاً آغاز کردیا ہے۔ ہائیکورٹ کے احکامات کے مطابق جاریہ ماہ کے اختتام تک گریٹر حیدرآباد کا عمل مکمل کیا جانا ہے، لہذا توقع کی جارہی ہے کہ چوتھے ہفتہ میں رائے دہی کی تاریخ رہے گی۔ اسی دوران برسر اقتدار ٹی آر ایس اور اہم اپوزیشن کانگریس نے پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ اس کے علاوہ تلگو دیشم ۔بی جے پی اتحاد نے پرانے شہر میں اپنے کیڈر کو منظم کرنے کیلئے مقامی سطح پر اجلاس منعقد کیا ہے۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد گریٹر حیدرآباد کا یہ پہلا الیکشن ہے ، لہذا برسر اقتدار ٹی آر ایس نے اپنی ساری طاقت جھونک دی ہیں تاکہ گریٹر پر قبضہ کیا جاسکے۔ پارٹی کو یقین ہے کہ حکومت کی دیڑھ سال کی کارکردگی اسے کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔ کانگریس ، تلگو دیشم اور بی جے پی نئے شہر کے اسمبلی حلقوں کے علاوہ پرانے شہر پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں  اور سیاسی مبصرین کے مطابق گریٹر کا مجوزہ الیکشن پرانے شہر میں دلچسپ نتائج پر مبنی ہوگا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب پرانے شہر میں اثر رکھنے والی مقامی جماعت کو باغی اور ناراض سرگرمیوں کا سامنا ہے، جس کا فائدہ کانگریس اور تلگو دیشم اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی سے اندرونی مفاہمت کے باعث مقامی سیاسی جماعت امیدواروں کے انتخاب کے سلسلہ میں مبینہ طور پر تبدیلیوں کی تیاری کر رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابقہ کارپوریٹرس میں تقریباً 30 تا40  فیصد کو مجوزہ انتخابات میں ٹکٹ سے محروم کردیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں پارٹی قیادت سے واضح اشارے دیئے گئے اور کئی وارڈس میں سرگرم دیگر قائدین کو انتخابات کی تیاری کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ان حالات میں پہلی مرتبہ ناراض سرگرمیاں اور باغی قائدین کی مخالف سرگرمیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔ ٹکٹ سے محرومی کے اندیشہ کا شکار سابق کارپوریٹرس اور قائدین اپنی سیاسی بقاء کیلئے دیگر جماعتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی پر مقامی جماعت کے اثر کو دیکھتے ہوئے یہ قائدین کا رجحان کانگریس اور تلگو دیشم کی طرف زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ناراض قائدین ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے ربط میں ہیں اور شمولیت کیلئے موزوں وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ پرانے شہر میں پہلی مرتبہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے حق میں  عوامی رائے عامہ کو دیکھتے ہوئے کانگریس اور تلگو دیشم نے بھی پوری شدت کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس طرح برسر اقتدار پا رٹی میں کانگریس اور تلگو دیشم کے عوامی نمائندوں کو آپریشن آکرشن کے ذریعہ ٹی آر ایس میں شامل کیا ۔ اسی طرح کانگریس اور تلگو دیشم نے پرانے شہر میں آپریشن آ کرشن کی حکمت عملی تیار کرلی ہے ۔ توقع ہے کہ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی اور پرچہ نامزدگی کے ادخال کے مرحلہ میں کئی ناراض قائدین مذکورہ جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔ کانگریس پارٹی نے ہر اسمبلی حلقہ میں گھر گھر مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ، جس میں پارٹی کے سرکردہ قائدین حصہ لیں گے۔ اطلاعات کے مطابق کانگریس اور تلگو دیشم سے کئی سابق کارپوریٹرس ربط میں ہیں اور ان کی شرط یہ ہے کہ نہ صرف ٹکٹ دیا جائے بلکہ انتخابی خرچ کا انتظام ہو۔ تاکہ مقامی جماعت کے امیدوار کا مقابلہ کیا جاسکے۔ پرانے شہر میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں عوامی نمائندوں اور بالخصوص کارپوریٹرس کی مبینہ ناکامیوں سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے جس کا اندازہ مسلم آبادی والے علاقوں میں کانگریس اور تلگو دیشم کو عوامی تائید کا حصول ہے۔ ان حالات میں بی جے پی نے پرانے شہر کے ہندو ا کثریتی علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے تاکہ نئے شہر کے علاوہ پرانے شہر میں بھی اپنے نمائندوں کو منتخب کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT