Thursday , April 19 2018
Home / شہر کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے مایوسی

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن سے مایوسی

’’نام بڑے درشن چھوٹے‘‘
آن لائین شکایتوںکی یکسوئی کے بغیر بند کرنے کا انکشاف

حیدرآباد ۔ 11 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ’’نام بڑے اور درشن چھوٹے‘‘ یہ محاورہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن پر صادق آتا ہے جو عوامی مسائل کی یکسوئی کے بلند بانگ دعوے کرتا ہے لیکن کارپوریشن کے بارے میں عوام کے تجربات تلخ ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے مختلف مسائل کی نمائندگی کے سلسلہ میں آن لائین سسٹم متعارف کیا۔ اس کے تحت 21 مختلف خدمات کے سلسلہ میں عوام کی رہنمائی کی جاتی ہے اور ان خدمات کے بارے میں عوام اپنی شکایات آن لائین درج کرسکتے ہیں۔ عام آدمی سے متعلق خدمات میں کچرے کی عدم نکاسی ، اسٹریٹ لائیٹس ، مچھروں کی کثرت ، تعمیراتی ملبہ ، ڈرینج اور سڑکوں پر پانی کا بہاؤ جیسے مسائل شامل ہیں۔ کوئی بھی شخص آن لائین شکایت درج کرسکتا ہے جس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دی جاتی ہے۔ طریقہ کار کے مطابق متعلقہ عہدیدار شکایت کا جائزہ لیتے ہوئے اندرون 24 گھنٹے اس کی یکسوئی کردیں اور شکایت کنندہ کو مسیج کے ذریعہ اطلاع دے دی جائے ۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی خدمات کے سلسلہ میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے عہدیدار حد درجہ لاپرواہی سے کام لے رہے ہیں۔ عوام نے شکایت کی کہ مسائل کی یکسوئی کے بغیر ہی شکایت کو آن لائین بند کردیا جارہا ہے اور مسئلہ کی یکسوئی کی تحریر درج کی جاتی ہے۔ بظاہر عوام کو یہ تاثر ملتا ہے کہ کارپوریشن کے عہدیدار بروقت عوامی مسائل کی یکسوئی کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اندرون 24 گھنٹے مسئلہ کی یکسوئی کے بجائے شکایت کو بند کردینا عوام کے ساتھ کھلا دھوکہ ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں توجہ دینی چاہئے کیونکہ ماتحت عہدیداروں کے سبب آن لائین شکایتی نظام سے عوام کا بھروسہ اٹھ جائے گا۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں سے یہ شکایات موصول ہورہی ہے کہ مچھروں کی افزائش ، کچرے کی عدم صفائی ، ڈرینج کے بہاؤ اور اسٹریٹ لائیٹس کے بارے میں کی جانے والی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی لیکن شکایت کو بند کردیا جاتا ہے۔ عوام جب دوبارہ شکایت کرتے ہیں تو انہیں ماتحت عہدیدار فون کرتے ہوئے مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ بار بار آن لائین شکایت سے گریز کریں ۔ اگر عوامی مسائل کی یکسوئی میں عہدیداروں کو دلچسپی نہیں تو پھر اس سسٹم کو بند کردینا بہتر ہوگا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر اور کمشنر کارکردگی کے سلسلہ میں بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن زمینی حقیقت تلخ اور عوام کیلئے مایوس کن ہے۔

TOPPOPULARRECENT