گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی 5روپئے میں کھانااسکیم

حیدرآباد۔/19 فروری (سیاست نیوز) شہر کے رائے دہندگان کو رجھانے مجلس اتحاد المسلمین کے انتخابی بجٹ کی مانند میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن مسٹر محمد ماجد حسین نے آج سال 2014-15 کے لئے 4599 کروڑ روپے کے منصوبہ مصارف کے ساتھ موازنہ تخمینہ پیش کیا۔ اس تخمینی موازنہ کی نمایاں خوبی غرباء کے لئے ’فوڈ اسکیم‘ ہے جسے فخر ملت سے موسوم کیا

حیدرآباد۔/19 فروری (سیاست نیوز) شہر کے رائے دہندگان کو رجھانے مجلس اتحاد المسلمین کے انتخابی بجٹ کی مانند میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن مسٹر محمد ماجد حسین نے آج سال 2014-15 کے لئے 4599 کروڑ روپے کے منصوبہ مصارف کے ساتھ موازنہ تخمینہ پیش کیا۔ اس تخمینی موازنہ کی نمایاں خوبی غرباء کے لئے ’فوڈ اسکیم‘ ہے جسے فخر ملت سے موسوم کیا گیا۔ شہری ادارہ اس اسکیم کے تحت بہت جلد فی کس 5 روپے گرما گرم تیار کھانا فراہم کرے گا۔ جی ایچ ایم سی کو ایک فرد کے لئے غذاء کی تیاری پر 20 روپے کے مصارف عائد ہوں گے لیکن شہر کے مختلف مقامات پر قائم کئے جانے والے 50 مراکز پر یومیہ 15,000 غریب لوگوں کو اس اسکیم سے فائدہ پہنچایا جائے گا۔ اس فوڈ اسکیم کے لئے جی ایچ ایم سی نے اپنے موازنہ میں 15 کروڑ روپے کی گنجائش فراہم کی۔ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے صرف 5 ر وپے ادا کرتے ہوئے اپنی بھوک مٹاسکتے ہیں۔ تخمینی موازنہ کو جی ایچ ایم سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی میں منظوری دی گئی۔

بعدازاں میئر مسٹر محمد ماجد حسین اور کمشنر مسٹر سومیش کمار نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ اسکیم کے طریق کار، پکوان، تناول طعام کے مراکز کے مقامات اور اسکیم کے آغاز کی تاریخ وغیرہ طئے کی جارہی ہیں۔ یاد رہے کہ جی ایچ ایم سی شہریوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کرنے شہر کے مختلف 400 مراکز پر ریورس آسموسس پلانٹس قائم کررہا ہے اور اس اسکیم کو مجلس کے مرحوم قائد سلطان صلاح الدین اویسی سے موسوم کیا گیا، حتیٰ کہ ٹولی چوکی فلائی اوور کو بھی سلطان صلاح الدین اویسی سے ہی موسوم کیا جائے گا اگر اس تجویز کو جنرل باڈی اجلاس میں منظوری حاصل ہوتی ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کے توثیق کردہ 4,599 کروڑ روپے کے بجٹ تخمینہ کو جنرل باڈی اجلاس میں منظوری حاصل کرنا ہے جو توقع ہے کہ /24 فروری کو منعقد ہوگا۔ انتخابات کے پیش نظر کانگریس پارٹی کے کارپوریٹرس بھی چاہتے ہیں کہ موافق غریب اسکیمات کو روشناس کیا جائے اس لئے اس بات کا بھی امکان ہے کہ جنرل باڈی اجلاس میں موازنہ میں مختلف اسکیمات کیلئے ترجیحی اساس پر تخصیص میں کمی و بیشی کی جائے گی۔ تخمینی موازنہ میں سڑکوں کی مرمت، دیکھ بھال اور جامع روڈ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کیلئے 436 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

کشن باغ میں نئے امیوزمنٹ پارک کے لئے 5 کروڑ روپے، ہیرٹیج ٹورازم کورائیڈر کے فروغ کیلئے 30 کروڑ روپے، میر عالم تالاب کو خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کیلئے 25 کروڑ روپے، غرباء کیلئے 24 نئے فنکشن ہالس کیلئے 36 کروڑ روپے، 18 نائٹ شیلٹرس کیلئے 36 کروڑ روپے، شہر بھر میں 400 ریورس آسموسس واٹر پلانٹس کیلئے 8 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے ہر حلقہ اسمبلی میں ایک منی اسپورٹس کامپلیکس کی تعمیر کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ نئے اسٹیڈیم اور سوئمنگ پولس کیلئے 50 کروڑ روپے، 14 مقامات پر گیٹ وے آف حیدرآباد کی تعمیر کیلئے 8.4 کروڑ روپے، اختراعی پراجکٹس کیلئے 50 کروڑ روپے، جھیلوں کے تحفظ کیلئے 10 کروڑ روپے، نئے پارکس اور ترقیاتی کاموں کیلئے مجموعی طور پر 45 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔قبل ازیں اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران تلگودیشم پارٹی کے کارپوریٹرس نے فلور لیڈر مسٹر سنگی ریڈی کی قیادت میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کی تخصیص میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT