Sunday , April 22 2018
Home / شہر کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر

گریٹر حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر

حکومت حیدرآباد کو عالمی معیار کا مثالی شہر بنانے کی پابند عہد، وقت درکار، کے ٹی راما راؤ

حیدرآباد ۔14۔ نومبر (سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حکومت حیدرآباد کو عالمی معیار کا مثالی شہر بنانے کے عہد کی پابند ہے ۔ تاہم اس کے لئے وقت ضرور لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کر رہی ہے جس پر 8650 کروڑ روپئے کا خرچ آئے گا ۔ کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران کے ٹی راما راؤ نے مجلس بلدیہ اور واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کو فنڈس کی اجرائی میں تاخیر کی تردید کی اور کہا کہ کانگریس دور حکومت سے زیادہ ٹی آر ایس نے دونوں اداروں کو فنڈس جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں صاف پینے کے پانی کی موثر سربراہی کو یقینی بنانے میں حکومت کامیاب ہوئی ہے ، جس کے نتیجہ میں واٹر ورکس کے دفتر پر خالی گھڑوں کے ساتھ احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کیلئے کانگریس دور حکومت میں جو رقم مختص کی گئی تھی ، وہ جاری نہیں کی گئی ۔ 2014-15 ء میں 600 کروڑ کے منجملہ 370 کروڑ جاری کئے گئے ۔ 2015-16 ء میں 1200 کروڑ مختص کئے گئے تھے اور 750 کروڑ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی ۔ 2016-17 ء میں مختص کردہ ایک ہزار کروڑ مکمل جاری کئے گئے۔ جاریہ سال ابھی تک 709 کروڑ روپئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو جاری کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد روڈ ڈیولمنٹ کارپوریشن کو 500 کروڑ کے منجملہ 125 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ اسی طرح موسیٰ ندی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو 125 کروڑ جاری کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام نے جس طرح گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کی مکمل تائید کی ہے ، اسی طرح حکومت نے بھی ان کے لئے ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں ایس آر ڈی پی اسکیم کے تحت 3,500 کر وڑ روپئے کے ترقیاتی کام جاری ہے۔ حکومت نے 1000 کروڑ مالیتی میونسپل بونڈس کی فروخت کی تجویز رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کا شہر راتوں رات تعمیر نہیں کیا سکتا ہے ، اس کے لئے وقت لگے گا۔ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو فنڈس کی اجر ائی کا تیقن دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ اتھاریٹی کی جانب سے آغا خاں ٹرسٹ کے اشتراک سے مختلف کام انجام دیئے رہے ہیں۔ قلی قطب شاہ اتھاریٹی کو 100 کروڑ کی اجرائشی کا مسئلہ چیف منسٹر سے رجوع کیا جا ئے گا اور کچھ رقم ضرور جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کرشنا گوداوری اور دیگر ذخائر آب سے شہر کو پانی کی سربراہی عمل میں لائی جارہی ہے۔ قائد اپوزیشن محمد علی شبیر اور ٹی آر ایس کے رکن ایم ایس پربھاکر راؤ نے جی ایچ ایم سی اور میٹرو واٹر کو بجٹ کی اجرائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پربھاکر نے بتایا کہ میٹرو واٹر ورکس کی آمدنی 90 کروڑ ہے اور وہ برقی بلز کے طور پر 70 کروڑ روپئے ادا کر رہا ہے۔ 20 کر وڑ تنخواہوں کی ادا ئیگی پر صرف ہورہے ہیں۔ کے ٹی آر نے ایوان میں جو اعداد و شمار پیش کئے ، ان کے مطابق جی ایچ ایم سی کو 2014-15 ء میں 180 کروڑ روپئے جاری کئے گئے جبکہ 2015-16 ء میں 55 کرو ڑ جاری کئے گئے۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کو 2014-15 ء میں 196 کروڑ ، 2015-16 ء میں 1019 کر وڑ ، 2016-17 ء میں 1032 کروڑ اور جاریہ سال ابھی تک 617 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔

 

TOPPOPULARRECENT