Saturday , June 23 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میں گورنر کے محدود اختیارات

گریٹر حیدرآباد میں گورنر کے محدود اختیارات

تلنگانہ بل میں غلط فہمی کا ازالہ ، نظام آباد میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش کا بیان

تلنگانہ بل میں غلط فہمی کا ازالہ ، نظام آباد میں مرکزی وزیر جئے رام رمیش کا بیان

نظام آباد:11؍ مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)مرکزی وزیر ماحولیات مسٹر جئے رام رمیش نے واضح کیا ہے کہ حیدرآباد کے لا اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو مکمل اختیارات حاصل نہیں ہوں گے اور انہیں تلنگانہ کی کابینہ سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا۔ کل نظام آباد آمد کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں انہو ں نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد بل میں پائے جانے والے نکات پر بالعموم غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دونوں ریاستوں کیلئے 10سال تک بنائے جانے والے ہیڈ کوارٹر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں نظم و ضبط کو گورنر کے تحت مرکوز کرکے رکھدیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گورنر کو جہاں با اختیار بنایا گیا ہے وہیں انہیں کونسل آف منسٹرس تلنگانہ کے مشورہ سے فیصلہ کرنے کا بھی پابند بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں قیام پذیر آندھرا رائلسیما کی عوام کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ انہیں جان و مال کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی خدشات لاحق نہ ہو اسی لئے انہیں خصوصی اختیارات دئیے گئے ہیں ۔ اس کیلئے دو مرکزی نمائندوں کو بھی مقرر کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی پہلی منتخب سرکار کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ان خدشات کے ازالہ کی ممکنہ کوشش کرے ،گریٹر حیدرآباد کا یہ علاقہ 650 کیلو میٹر پر محیط ہے۔کانگریس نے 30؍ جولائی 2013 ء میں تلنگانہ کے قیام کا فیصلہ کیا تھا اور 28؍ فروری کواس بل کو مکمل کیا گیا جبکہ بی جے پی تلنگانہ کے قیام پر سنجیدہ نہیں تھی۔ راجیہ سبھا میں کامیابی کیلئے کانگریس نے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کی راجیہ سبھا میں ٹی آرایس کا کوئی وجود نہیں ہے

اور بل کی کامیابی کا اعزاز صرف اور صرف کانگریس کو ہے لیکن چند افراد اپنے آپ کو تلنگانہ کا گاندھی ، نہرو ، سبھاش چندر بوس اور دیگر قائدین سے تقابل کررہے ہیں ۔ ہائی کورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے اعتراض کی وجہ سے تلنگانہ کے ہائی کورٹ کے بارے میں بل میں شامل نہیں کیا گیا کیونکہ ہائی کورٹ نے اس بارے میں اعتراض کیا تھا لیکن آرٹیکل 214 کے تحت سپریم کورٹ کے مشورہ سے عنقریب میں تلنگانہ کا ہائی کورٹ علیحدہ ہوگا اور سیما آندھرا کا ہائی کورٹ علیحدہ ہوگا موجودہ ہائی کورٹ پر تلنگانہ کی عوام کو اختیار حاصل ہوگا اور یہ معاملہ 3یا 4ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ تعلیمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی ادارے حیدرآباد میں ہونے کی وجہ سے 10سال تک مشترکہ طور پر رہیں گے۔ آبی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گوداوری ندی کے پانی کے استعمال کیلئے تلنگانہ بورڈ اور کرشنا کے پانی کے استعمال کیلئے سیما آندھرا بورڈ قائم کئے گئے ہیں اور یہ بورڈ با اختیار ہوگا۔مرکزی حکومت آبی جھگڑے پیدا نہیں کرنا چاہتی اس لئے دونوں علاقوں میں دو علیحدہ علیحدہ بورڈ قائم کئے گئے ہیں۔تلنگانہ کے محبوب نگر ضلع میں آبی قلت ہے اور اس قلت کو دور کرنے کیلئے مرکزی حکومت کوشاں ہے۔ دونوں کو قائم شدہ ریاستوں کی عوام کو اس فیصلہ پر اطمینان حاصل نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کانگریس اس فیصلہ کے بعد مشکل صورتحال سے گذررہی ہے انہوں نے اعتراف کیا کہ آندھرا سیما میں کئی سینئر قائدین مستعفی ہورہے ہیں تاہم کئی سینئر قائدین اب بھی کانگریس کے ساتھ ہیں جن کا ایقان اقتدار کے برعکس نظر یاتی سیاست پر ہے

جبکہ کانگریس کیلئے بھی اچھا موقع ہے کہ وہ موقع پرست سیاستدانوں سے چھٹکارا حاصل کررہی ہے۔مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ عنقریب دونوں علاقوں کی علیحدہ علیحدہ پردیش کانگریس کمیٹیوں کی بھی تشکیل عمل میں آئے گی اوراس پر ایک دو دن میں فیصلہ ہوجائیگا۔ اس موقع پرآل انڈیاکانگریس کمیٹی ایس سی ایس ٹی سیل کے چیرمین کے راجو، ارکان پارلیمنٹ مدھوگوڑ یاشکی ، سریش شٹکر، پونم پربھاکر، سابق صدر پردیش کانگریس ڈی سرینواس ،ایم ایل سی محمدعلی شبیر، سابق وزیر پی سدرشن ریڈی، سابق اسپیکر کے آر سریش ریڈی، ریاستی صدر مہیلا کانگریس آکولہ للیتا، صدر ضلع کانگریس طاہر بن حمدان، صدر ٹائون کانگریس کیشو وینو، صدر ویر ہائوزنگ کارپوریشن مہیش کمار گوڑ، پی سی سی سکریٹریز این رتناکر، ڈی سریندر،صدر ضلع وقف کمیٹی محمد جاویداکرم، کانگریس قائدین سید نجیب علی،ایم اے قدوس، مولانا کریم الدین کمال کے علاوہ دیگر کئی کانگریسی قائدین بھی موجود تھے مسٹر طاہر بن حمدان نے جئے رام رمیش کانگریس بھون پہنچنے پر ان کازبردست خیر مقدم کیا اور شال پوشی کی۔

TOPPOPULARRECENT