Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان سڑکوں کی ابتر صورتحال کی شکایتوں کے ازالہ میں ناکامی پر اقدام ، بلدیہ کی بہتر کارکردگی پر توجہ حیدرآباد۔26اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر کی سڑکوں کی حالت کی ابتری کی شکایات کے باوجود کوئی تبدیلی نہ آنے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی کو بہتر نہ بنائے جانے کے سبب جی ایچ ایم سی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے جانے کا امکان ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمشنر جی ایچ ایم سی کے تبادلہ پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کی سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب نہ صرف شہری پریشان ہیں بلکہ دونوں شہروں میں اہم شخصیتیں بھی سڑکوں کی حالت کے سبب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سرکاری عہدیدار اور ملازمین بھی جی ایچ ایم سی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اورشہر کی سڑکوں کی حالت ان کے پاس بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اتی کاموں کے جاری رہنے کی اطلاعات کے باوجود شہر کی اہم سڑکوں کی ابتر حالت عوام کے لئے انتہائی تکلیف دہ بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب محکمہ ٔ بلدی نظم و نسق کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کے علاوہ کمشنر کے تبادلہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ صحت عامہ کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کئے جا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بلدیہ کے عہدیداروں کے اندرون کارپوریشن تبادلوں کے باوجود کوئی مثبت نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب اعلی عہدیداروں میں سخت برہمی پائی جاتی ہے اور حکومت کے مختلف محکمہ ٔ جات میں خدمات انجام دے رہے عہدیدار سڑکوں کی حالت کے مسائل کو ہر جگہ موضوع بحث بنانے لگے ہیں جس کے سبب بلدیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے جانے لگے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر میں 100کروڑ کے اسکام کو منظر عام پر آنے کے بعد عہدیداروں اور عوام میں سڑکوں کی حالت پائی جانے والی برہمی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے عوامی مسائل اور سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب پیدا ہو رہے مسائل پر توجہ نہ دیئے جانے کے کئی منفی اثرات حکومت پر مرتب ہونے لگے ہیں اور جی ایچ ایم سی کی عدم کارکردگی کو حکومت کی ناکامی پر محمول کیا جانے لگا ہے۔ عوام بھی اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ حکومت خود سڑکوں کو بہتر بنانے کے مسئلہ کو نظر انداز کر رہی ہے جس کے سبب بلدی عہدیدار کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان سڑکوں کی ابتر صورتحال کی شکایتوں کے ازالہ میں ناکامی پر اقدام ، بلدیہ کی بہتر کارکردگی پر توجہ حیدرآباد۔26اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر کی سڑکوں کی حالت کی ابتری کی شکایات کے باوجود کوئی تبدیلی نہ آنے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی کو بہتر نہ بنائے جانے کے سبب جی ایچ ایم سی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے جانے کا امکان ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمشنر جی ایچ ایم سی کے تبادلہ پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کی سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب نہ صرف شہری پریشان ہیں بلکہ دونوں شہروں میں اہم شخصیتیں بھی سڑکوں کی حالت کے سبب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سرکاری عہدیدار اور ملازمین بھی جی ایچ ایم سی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اورشہر کی سڑکوں کی حالت ان کے پاس بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اتی کاموں کے جاری رہنے کی اطلاعات کے باوجود شہر کی اہم سڑکوں کی ابتر حالت عوام کے لئے انتہائی تکلیف دہ بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب محکمہ ٔ بلدی نظم و نسق کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کے علاوہ کمشنر کے تبادلہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ صحت عامہ کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کئے جا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بلدیہ کے عہدیداروں کے اندرون کارپوریشن تبادلوں کے باوجود کوئی مثبت نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب اعلی عہدیداروں میں سخت برہمی پائی جاتی ہے اور حکومت کے مختلف محکمہ ٔ جات میں خدمات انجام دے رہے عہدیدار سڑکوں کی حالت کے مسائل کو ہر جگہ موضوع بحث بنانے لگے ہیں جس کے سبب بلدیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے جانے لگے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر میں 100کروڑ کے اسکام کو منظر عام پر آنے کے بعد عہدیداروں اور عوام میں سڑکوں کی حالت پائی جانے والی برہمی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے عوامی مسائل اور سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب پیدا ہو رہے مسائل پر توجہ نہ دیئے جانے کے کئی منفی اثرات حکومت پر مرتب ہونے لگے ہیں اور جی ایچ ایم سی کی عدم کارکردگی کو حکومت کی ناکامی پر محمول کیا جانے لگا ہے۔ عوام بھی اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ حکومت خود سڑکوں کو بہتر بنانے کے مسئلہ کو نظر انداز کر رہی ہے جس کے سبب بلدی عہدیدار کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔

گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا امکان
سڑکوں کی ابتر صورتحال کی شکایتوں کے ازالہ میں ناکامی پر اقدام ، بلدیہ کی بہتر کارکردگی پر توجہ
حیدرآباد۔26اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر کی سڑکوں کی حالت کی ابتری کی شکایات کے باوجود کوئی تبدیلی نہ آنے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی کو بہتر نہ بنائے جانے کے سبب جی ایچ ایم سی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کئے جانے کا امکان ہے اور سمجھا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمشنر جی ایچ ایم سی کے تبادلہ پر بھی غور کیا جائے گا کیونکہ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کی سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب نہ صرف شہری پریشان ہیں بلکہ دونوں شہروں میں اہم شخصیتیں بھی سڑکوں کی حالت کے سبب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ سرکاری عہدیدار اور ملازمین بھی جی ایچ ایم سی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اورشہر کی سڑکوں کی حالت ان کے پاس بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اتی کاموں کے جاری رہنے کی اطلاعات کے باوجود شہر کی اہم سڑکوں کی ابتر حالت عوام کے لئے انتہائی تکلیف دہ بنی ہوئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب محکمہ ٔ بلدی نظم و نسق کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کے علاوہ کمشنر کے تبادلہ پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ شہر کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کے علاوہ صحت عامہ کے مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کئے جا سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ دنوں میں بلدیہ کے عہدیداروں کے اندرون کارپوریشن تبادلوں کے باوجود کوئی مثبت نتائج برآمد نہ ہونے کے سبب اعلی عہدیداروں میں سخت برہمی پائی جاتی ہے اور حکومت کے مختلف محکمہ ٔ جات میں خدمات انجام دے رہے عہدیدار سڑکوں کی حالت کے مسائل کو ہر جگہ موضوع بحث بنانے لگے ہیں جس کے سبب بلدیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگائے جانے لگے ہیں۔ سڑکوں کی تعمیر میں 100کروڑ کے اسکام کو منظر عام پر آنے کے بعد عہدیداروں اور عوام میں سڑکوں کی حالت پائی جانے والی برہمی میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیداروں کی جانب سے عوامی مسائل اور سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب پیدا ہو رہے مسائل پر توجہ نہ دیئے جانے کے کئی منفی اثرات حکومت پر مرتب ہونے لگے ہیں اور جی ایچ ایم سی کی عدم کارکردگی کو حکومت کی ناکامی پر محمول کیا جانے لگا ہے۔ عوام بھی اس بات کو تسلیم کرنے لگے ہیں کہ حکومت خود سڑکوں کو بہتر بنانے کے مسئلہ کو نظر انداز کر رہی ہے جس کے سبب بلدی عہدیدار کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔

TOPPOPULARRECENT