گستاخانہ کارٹون شائع کرنے والی ایڈیٹر کی گرفتاری پر پابندی

اردو روزنامہ ’اودھ نامہ‘ کی خاتون ایڈیٹر شیریں دلوی کی درخواست پر عدالت کی راحت رسانی

اردو روزنامہ ’اودھ نامہ‘ کی خاتون ایڈیٹر شیریں دلوی کی درخواست پر عدالت کی راحت رسانی
ممبئی ۔ 9 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائیکورٹ نے آج حکومت مہاراشٹرا اور پولیس پر امتناع عائد کیا کہ وہ ایک اردو روزنامہ کے ایڈیٹر کو دھمکانے یا گرفتار کرنے سے باز رہیں کیونکہ وہ سرورق پر فرانسیسی رسالہ شارلی ہیبڈو میں شائع ہونے والے پیغمبراسلام ﷺ کا ایک اہانت انگیز کارٹون دوبارہ شائع کرنے پر تنازعہ کا مرکز بن گیا ہے۔ جسٹس رنجیت مورے اور جسٹس انوجا پربھو دیسائی پر مشتمل ہائیکورٹ کی ایک بنچ نے شیریں دلوی ایڈیٹر اردو روزنامہ ’’اودھ نامہ‘‘کو دھمکیاں دینے یا اس کی گرفتاری سے حکومت مہاراشٹرا اور پولیس کو باز رہنے کی ہدایت دی۔ یہ روزنامہ گذشتہ ماہ کارٹون کی اشاعت کے بعد سے بند ہے۔ 46 سالہ شیریں دلوی ساکن ممبرا نے اس کے خلاف مقدمات منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے اور تمام مقدمات کو جو اس کے خلاف دائر کئے گئے ہیں، یکجا کرتے ہوئے ان کی سماعت کرنے کی درخواست کی ہے۔ علاوہ ازیں اس نے عدالت سے گذارش کی کہ حکومت اور پولیس کو اس کو دھمکانے والے اقدامات بشمول گرفتاری کرنے سے باز رہنے کی ہدایت دی جائے۔ اس مقدمہ کی سماعت 11 فبروری تک ملتوی کردی گئی جبکہ وکیل استغاثہ ایس ایس شنڈے نے یہ کہتے ہوئے مہلت طلب کی کہ حکومت کو دلوی کی گذارش کردہ راحت رسانی پر عدالت کی جانب سے ہدایات جاری کی جائیں۔ اس روزنامہ نے فرانسیسی طنزیہ رسالہ شارلی ہیبڈو میں گذشتہ ماہ اسلامی عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کے بارے میں شارلی ہیبڈو میں شائع کارٹون دوبارہ شائع کیا تھا۔ بحیثیت مجموعی چینی دلوی کے خلاف 5 مقدمات درج کئے گئے ہیں جو مذہبی جذبات مجروح کرنے اور دانستہ طور پر اہانت انگیز اشاعت کرنے کے سلسلہ میں ہے۔ ان مقدمات میں دو ممبئی، دو تھانے اور ایک مالیگاؤں میں دائر کیا گیا ہے۔ شیریں دلوی نے باقاعدہ ضمانت اپنی گرفتاری کے بعد جو ممبرا قصبہ میں اس پر دائر کردہ مقدمہ کے سلسلہ میں تھی، حاصل کرلی ہے۔ عدالت سے اس کے وکیل مہر دیسائی نے کہا کہ ایڈیٹر نے کہا ہیکہ وہ واحد خاتون ایڈیٹر ہے جو ہندوستان میں کسی اردو روزنامہ کی ہے اور کارٹون کی اشاعت کے بعد اسے حملوں کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کروائے گئے ہیں۔ وہ اپنے گھر میں رہائش ترک کرنے پر بھی مجبور ہوگئے ہے۔ اس کے بچے اپنی تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور جسمانی ضرر کے اندیشے سے وہ اپنی ماں سے ملاقات بھی نہیں کرسکتے۔ روزنامہ نے 17 جنوری کو متنازعہ کارٹون شائع کیا تھا اور اگلے ہی دن 19 جنوری کو اس اشاعت پر معذرت خواہی کرلی تھی لیکن تشدد کے خوف سے روزنامہ کی اشاعت مسدود کردی گئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT