Friday , October 19 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گلبرگہ ابتداء ہی سے علم و ادب کا مرکز اور عالمگیر شہرت کا حامل

گلبرگہ ابتداء ہی سے علم و ادب کا مرکز اور عالمگیر شہرت کا حامل

گلبرگہ۔21 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گلبرگہ ہمیشہ ہی علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ بہمنی دور میں ہی اس کی شہرت عالمگیر ہوچکی تھی، جب فیروزشاہ بہمنی حکمران تھا وہ علم و فن کا چاہنے والا تھا خود بھی بہت تعلیم یافتہ تھا، دنیامیں ہمیشہ علم وادب کے علما موجود رہتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ گلبرگہ کبھی علماء وادبا سے خالی نہیں رہا۔ ان خیالات کا

گلبرگہ۔21 جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گلبرگہ ہمیشہ ہی علم و ادب کا مرکز رہا ہے۔ بہمنی دور میں ہی اس کی شہرت عالمگیر ہوچکی تھی، جب فیروزشاہ بہمنی حکمران تھا وہ علم و فن کا چاہنے والا تھا خود بھی بہت تعلیم یافتہ تھا، دنیامیں ہمیشہ علم وادب کے علما موجود رہتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ گلبرگہ کبھی علماء وادبا سے خالی نہیں رہا۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید شاہ گیسودراز خسرو حسینی صاحب (سجادہ نشین بارگاہِ بندہ نوازؒ) نے 19؍جنوری کی شام انجمن ترقی اُردو گلبرگہ کے خواجہ بندہ نوازؒ ایوان اُردو مین انجمن کی شائع کردہ کتاب گلبرگہ میں شعروادب کی رسم اجراء انجام دینے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کے مرتبین ممتاز ادیب و صحافی جناب حامداکمل اور نئی نسل کے ممتاز محقق ڈاکٹر انیس صدیقی ہیں۔ حضرت خسروحسینی نے فرمایا کہ میں اس بات پر مسرت کا اظہار کرتا ہوں کہ اس اہم تالیف کا میرے ہاتھوں اجراء عمل میں آیا۔ میں کتاب کے مرتبین اور انجمن کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کی کاوشوں کی وجہ سے یہ کتاب منظر عام پر آئی اس کی طباعت اور انداز پیشکش عالمی معیار کی ہے۔ بڑی نقاست سے یہ کام ہوا ہے ، کتاب میں مختلف اصناف ادب ،تاریخ پر بہت اچھے مضامین موجود ہیں۔حامداکمل صاحب نے پیش لفظ میں جن باتوں کا اظہار فرمایا ہے کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں ۔ آج کل تحقیق کے معاملات میں حوالوں کی کمی نظرآتی ہے۔ تحقیقی ادب کو حوالوں سے مزین کرنا بے حد ضروری ہے بعض اوقات حوالے اور حواشی بے حد ضروری اور متن سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔

مقام مسرت ہے کہ ایک اہم کتاب ہمارے سامنے آئی ہے ، ادب کے اور بھی گوشے پوشیدہ ہوںگے انھیں بھی آپ حضرات منظر عام پر لائیں تو اچھا ہوگا۔ گلبرگہ میں شعر وادب کے مرتبین نے جو محنت کی ہے اس کے لیے وہ ہم سب کی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ دعا ہیکہ ادب کی ایسی مزید تحقیقی کتابیں ہمارے سامنے آتی رہیں۔الحاج قمرالاسلام نے انجمن سے اظہار تشکر کرتے ہوئے اُردو زبان کے مسائل کی یکسوئی کے لیے اُردو داں طبقہ کی جدوجہد میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ انھوںنے گلبرگہ میں شعر وادب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی کتاب کی عرصہ دراز سے آرزو رکھتے تھے۔ انھوںنے اُردو اکیڈیمی کے بجٹ میں 20لاکھ روپیئے کی تخفیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پچھلی بی جے پی حکومت نے سال گذشتہ تمام اکیڈیمیوں کے فنڈ میں تخفیف کی تھی۔ موجودہ حکومت اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔ انھوںنے تالیوں کی گونج میں انکشاف کیا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ جو 400کروڑ روپیئے تھا انھوںنے اسے بڑھاکر ایک ہزار کروڑ روپیئے کردیا ہے چونکہ اُردو اکیڈیمی اسی محکمہ تحت کام کرتی ہے۔ اس کی گرانٹ میں اضافہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ انھوںنے کہا کہ وہ اُردو کے گنگاجمنی سیکولر کردار کے تحفظ کے خواہاں ہیں، دوسری زبانیں بولنے والوں کو اُردو سے واقف کروانے اور اُردو تعلیم اور ادب کے مسائل کے لیے متحدہ جدوجہد وقت کا تقاضہ ہے۔ انھوںنے انجمن ترقی اُردو گلبرگہ کے ایوان اُردو کی تعمیر کے لیے سابق سجادہ نشین بارگاہ بندہ نوازؒ حضرت سید شاہ محمد محمد الحسینیؒ کی جانب سے اراضی کے گراں قدر عطیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراور گلبرگہ کے نمایندے کی حیثیت سے انجمن کے توسیعی مقاصد میں ہر ممکن تعاون کریںگے۔انھوںنے کہا کہ اگلے سال کے بجٹ میں اُردو اکیڈیمی کے لیے زائد بجٹ کی منظوری کے ذریعہ میڈیا کی جدید ٹیکنیکس ، جرنلزم اور اینکرنگ وغیرہ کی ٹریننگ کااُردو میں اہتمام کیاجائے گا۔

اس سلسلے میں وہ اُردو ماہرین تعلیم اوباء اور دانشوروں کی ایک مستقل کمیٹی قائم کریںگے۔ جناب حامد اکمل نے شعر وادب کی ترتیب کے حوالے سے کہا کہ گلبرگہ میں اُردو زبان و ادب کی ایک جامع تاریخ کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی۔ انجمن ترقی اُردو گلبرگہ نے پدم شری ڈاکٹر مجتبیٰ حسین کے اس مشورے کی تعمیل میں اس طرف توجہ مرکوز کی جو انھوںنے 14؍جنوری 2010کو منعقدہ جشن وہاب عندلیب کے موقع پر دیا تھا۔ انجمن نے مختلف اصناف پر ادباء سے مقالے لکھوائے ان پرخود ان سے نظرثانی کروائی ۔ یہ کتاب انہی مقالوں کا مجموعہ ہے۔ یہ مقالات اپنے موضوع پر اپنی اہمیت توثابت کرتے ہیں لیکن مکمل تشفی فراہم نہیں کرتے اس طرح یہ کتاب ایک جامع تذکرہ اور مکمل تاریخ کی تدوین کی پیاس کو بڑھانے اور نئی نسل کے محققین کے لیے مزید تلاش و تحقیق کی تحریک کا سبب بن سکتی ہے اس مقصد کے لیے یہ ایک اولین حوالہ ثابت ہوگی۔الحاج اقبال احمد سرڈگی (سابق رکن پارلیمنٹ وسابق صدر نشین مرکزی حج کمیٹی) کی زیرصدارت تقریب سے ڈاکٹر حشمت علی فاتحہ خوانی (صدر شعبہ اُردو کرناٹک کالج بیدر ) نے بھی مخاطب کیا۔ تقریب کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید اکبر (صدر شعبہ اُردو فارسی گلبرگہ یونیورسٹی) کی قرأت کلام پاک اور جناب اسد علی انصاری (صدر ضلع وقف مشاورتی کمیٹی گلبرگہ) اور جناب سید طیب علی یعقوبی (ایڈمنسٹریٹر انجمن انصارالصفہ) کی نعت خوانی سے ہوا۔ جناب خواجہ پاشاہ انعامدار (نائب صدر ) نے تقریب کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ صدر انجمن جناب ولی احمد نے خیر مقدم کیا۔

جبکہ جناب امجد جاوید نے مہمانوں کا تعارف کراتے ہوئے ان کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر انیس صدیقی نے نظامت کے فرائض نہایت دلنشین انداز میں انجام دیئے۔ ڈاکٹروہاب عندلیب نے ریاستی وزیر الحاج قمرالاسلام کی، امجد جاوید نے حضرت خسروحسینی صاحب قبلہ کی اور ولی احمد نے الحاج اقبال احمد سرڈگی کی گلپوشی وشال پوشی کی۔حضرت خسرو حسینی صاحب نے ڈاکٹر وہاب عندلیب کو کتاب پیش کرتے ہوئے ان کی شال پوشی و گلپوشی کی۔جناب اقبال احمد سرڈگی نے جناب حامداکمل (ایڈیٹر کے بی این ٹائمز) کی اور جناب قمرالاسلام نے ڈاکٹر انیس صدیقی کی گلپوشی کرتے ہوئے شال اڑھائی۔ ڈاکٹر شمس الدین چودھری اور جناب سردار میاں لیکچرر نے بھی مرتبین کی گلپوشی کی ۔معتمد انجمن ڈاکٹر رفیق رہبر نے شکریہ ادا کیا۔ایوان اُردو مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے ادب دوستوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

TOPPOPULARRECENT