Sunday , December 17 2017
Home / اداریہ / گلبرگ قتل عام کیس کا فیصلہ

گلبرگ قتل عام کیس کا فیصلہ

انصاف اگر یہ ہے تو انصاف کا پھر قتل
کہتے ہیں کسے کوئی مجھے یہ تو بتا دے
گلبرگ قتل عام کیس کا فیصلہ
گجرات میں ہوئے مسلم کش فسادات کے دوران ایک انتہائی وحشیانہ واقعہ پیش آیا تھا جس میں گلبرگ سوسائیٹی میں 69 افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا ۔ ان میں کانگریس کے سابق رکن راجیہ سبھا احسان جعفری بھی شامل تھے ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا اور نہ اس میں کچھ معمولی تعداد میں افراد نے حصہ لیا تھا بلکہ درجنوں غنڈہ عناصر نے یہاں وحشیانہ قتل عام میں حصہ لیا تھا اور یہ واقعات سارے ملک میں عبرت کی علامت بن گئے تھے ۔ شائد اسی واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کہا تھا کہ اب وہ بیرون ملک کس منہ سے جائیں گے ؟ ۔ اس قتل عام کے مقدمات کے اندراج اور پھر اس کی سنوائی کے دوران کئی ڈرامائی موڑ آئے تھے ۔ ابتداء میں تو عدالتوں نے گجرات کی حکومت اور گجرات کی پولیس کی کئی بار سرزنش کی تھی اور مقدمات کی ریاست کے باہر منتقلی کے مطالبات بھی ہونے لگے تے ۔ ملک کے ہر انصاف پسند اور انسانیت پسند گوشے کی جانب سے اس قتل عام کی انتہائی شدید مذمت کی گئی تھی تاہم اگر کسی گوشے سے کوئی مذمت نہیں ہوئی تو وہ سنگھ پریوار تھا ۔ سنگھ پریوار کی تنظیمیں ہی اس قتل عام کی ذمہ دار تھیں اور انہوں نے اس قتل عام کا اپنے انداز میں جواز بھی پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ جس وقت سے مقدمات کی سماعت کا آغاز ہوا اسی وقت سے گجرات کی حکومت ان مقدمات کی سماعت میں مختلف انداز سے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی ۔ گجرات کے عہدیداروں نے سپریم کورٹ کی تقرر کردہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں تک بھی تعاون نہیں کیا تھا ۔ تاہم طوعا و کرہا حکومت گجرات کو گلبرگ قتل عام مقدمہ کو آگے بڑھانا پڑا ۔ اب عدالت کی جانب سے اس مقدمہ میں 24 افراد کو خاطی قرار دیدیا گیا ہے اور 36 افراد بشمول ایک بی جے پی کارپوریٹر کو بری کردیا گیا ۔ جن افراد کو بری کیا گیا ان کو کلین چٹ عدالت نے استغاثہ کے پیش کردہ ناکافی ثبوت و شواہد کی بنا پر دی ہے اور ان کی برات کیلئے استغاثہ ذمہ دار ہے ۔ استغاثہ اس کیس کو ٹھیک ڈھنگ سے عدالت میں پیش نہیں کرسکا اور نہ ملزمین کیخلاف ثبوت و شواہد کو منظم انداز میں پیش کیا گیا ۔ تاہم عدالت نے 24 ملزمین کو قتل عام کا مرتکب اور خاطی قرار دیدیا ہے ۔
اس کیس میں استغاثہ کی کمزور پیروی کی وجہ سے کئی ملزمین بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ان کے خلاف اپیل کی جانی چاہئے اور پیروی بھی موثر انداز میں ہونی چاہئے ۔ تاہم جو بھی فیصلہ آیا ہے وہ در اصل ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کو دی گئی کلین چٹ کا جواب کہا جاسکتا ہے ۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا اس وقت نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر تھے اور آج وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ جس وقت سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے مودی کو کلین چٹ دی تھی اس وقت انہوں نے God is Great  ٹوئیٹ کیا تھا ۔ تاہم اب جبکہ ان کے اقتدار میںپیش آئے گلبرگ قتل عام مقدمہ میں 24 ملزمین کو خاطی قرار دیا گیا ہے تو مودی نے چپ سادھ لی ہے ۔ اب انہیں نہ ٹوئیٹر یاد آیا ہے اور نہ وہ کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ در اصل مودی کی قیادت کی سرزنش ہی ہے کیونکہ اس وقت وہی ریاست کے چیف منسٹر تھے اور نظم و قانون کی برقراری کی ذمہ داری انہیں پر تھی ۔ عدالت کے فیصلے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ اس وقت نریندر مودی نے بحیثیت چیف منسٹر گجرات حالات پر قابو پانے کیلئے درکار اور ضروری اقدامات نہیں کئے تھے جن کی وجہ سے فرقہ پرستوں اور فاشسٹوں کو یہاں وحشیانہ کارروائی کرنے کا موقع ملا اور وہ اس کے بعد بھی کھلے گھومتے رہے تھے ۔ یہ تو عدالتی ہدایات تھیں جن کی وجہ سے ان فسادیوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور ان کی مکمل سماعت کے بعد دو درجن فسادیوں کو خاطی قرار دیدیا گیا ہے اور انہیں سزائیں سنائی جائیں گی ۔
مودی نے جس طرح سے ایس آئی ٹی سے کلین چٹ ملنے پر ٹوئیٹ کیا تھا انہیں اب بھی ٹوئیٹ کرنا چاہئے تھا ۔ یہی ان کی غیر جانبداری کا تقاضہ تھا اور ان کے احساس ذمہ داری کو ظاہر کرسکتا تھا تاہم مودی ایسا لگتا ہے کہ فرقہ پرستوں اور فسادیوں کو دی گئی سزاوں پر خوش نہیں ہیں اسی لئے انہوں نے اس پر کسی طرح کا ٹوئیٹ کرنے سے گریز کیا ہے اور کوئی تبصرہ بھی کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے ۔ عدالت کا یہ فیصلہ فرقہ پرستوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے اور اس سے متاثرین میں انصاف ملنے کا احساس پیدا ہوا ہے ۔ یہ درست ہے کہ استغاثہ کی غیر کارکرد پیروی کی وجہ سے دوسرے ملزمین بچ نکلنے میںکامیاب رہے ہیں لیکن ملک میں عدلیہ اس قدر مستحکم ہے اور اس پر عوام کا اس قدر اعتماد ہے کہ فرقہ پرستوں اور فسادیوں پر شکنجہ کبھی بھی کسا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT