Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / گمراہ کن اشتہارات کے مرتکب افراد کو سخت سزاء

گمراہ کن اشتہارات کے مرتکب افراد کو سخت سزاء

نئے صارفین تحفظ قانون پر لوک سبھا میں رام ولاس پاسوان کا بیان
نئی دہلی ۔ 21 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر اُمور صارفین رام ولاس پاسوان نے آج کہا کہ نئے صارفین تحفظ قانون کے تحت گمراہ کن اشتہار بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور جن کمپنیوں نے عوام کو دھوکہ دیا ہے اُنھیں سخت سزاء بھی دی جائے گی ۔ انھوں نے لوک سبھا کو بتایا کہ مختلف اخبارات اور میڈیا میں جھوٹے اور گمراہ کن اشتہارات دیئے جارہے ہیں اور حکومت کو اس بات کا علم ہے ۔ ایسے ہی اشتہارات پر قابو پانے کے لئے قانون میں دفعات وضع کئے گئے ہیں۔ جن اشتہارات میں گمراہ کن ادعا جات کئے جاتے ہیں یا کمپنیوں کی جانب سے دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے اشتہار بازی کی جاتی ہے ، ان پر روک لگائی جائے گی ۔ وقفہ سوالات کے دوران رام ولاس پاسوانے کہا کہ نیا صارفین تحفظ قانون پر عمل آوری جاری ہے ۔ اس قانون کو کابینہ میں بھی گشت کروایا گیا ہے ۔ قانون میں ایسے دفعات بھی وضع کئے گئے ہیں جن کی مدد سے گمراہ گن اشتہارات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ پارلیمانی اسٹانڈنگ کمیٹی نے صارفین تحفظ قانون 2015 میں مختلف تبدیلیوں کی تجویز رکھی تھی ۔ ان تجاویز کو نئے بل میں شامل کیا جائے گا۔ رام ولاس پاسوان نے یہ بھی کہا کہ سونے کی قدر میں ہال مارک کو لازمی قرار دیا جائے گا ۔ اس کے وزن کو گرامس میں ہی برقرار رکھتے ہوئے کمپنی کا نام بھی اس پر تحریر کیا جانا چاہئے ۔ مینوفیکچررس اور اشتہاربازی کرنے والے مشہور شخصیتیں اپنے اشتہارات کے ذریعہ عوام کو غلط باور کراتے ہیں تو حکومت انھیں ہرگز نہیں بخشے گی ۔ ایسے اشتہارات کی جانچ کرنے کیلئے حکومت نے ایک میکانزم تیار کیا ہے ۔ اس میکانزم کے ذریعہ اشتہارات کی حقیقت کی جانچ کی جائے گی اورغلط بیانی سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے تو ایسی سرگرمیوں کو فوری روک دیا جائے گا ۔ بین وزارتی نگرانکار کمیٹی کے علاوہ شکایات کے ازالہ کیلئے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے جس کا کام گمراہ کن اشتہارات کے خلاف کی جانے والی شکایات کا جائزہ لینا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT