Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / گمشدہ بچوں کی تلاش ، 31 جولائی تک خصوصی آپریشن

گمشدہ بچوں کی تلاش ، 31 جولائی تک خصوصی آپریشن

ماں باپ سے بچھڑے بچوں کو والدین سے ملانے کی مساعی ، محکمہ ویمن اینڈ چائیلڈ ویلفیر سرگرم
حیدرآباد۔11جولائی (سیاست نیوز) محکمہ ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیر کی جانب سے گمشدہ بچوں کی تلاش کیلئے خصوصی آپریشن مسکان چلایا جائے گااوراس آپریشن کے دوران سڑک‘ فٹ پاتھ‘ عبادتگاہوں اور شیلٹر ہومس میں رہنے والے بچوں کی جانچ کرتے ہوئے انہیں ان کے والدین یا سرپرستوں سے ملوانے کی کوشش کی جائے گی لیکن اس سے قبل ان کے والدین و سرپرستوں کے خاندانی پس منظر کا جائزہ لیا جائے گا۔جوائنٹ ڈائریکٹر محکمہ ویمن اینڈ چائلڈ ویلفیر مسز کے آر ایش لکشمی دیو ی نے بتایا کہ ریاست میں محکمہ کی جانب سے یہ 31جولائی تک مسلسل اس آپریشن کو جاری رکھا جائے گا تاکہ مانباپ سے بچھڑے ہوئے بچوں کو ان سے ملانے کی کوشش کی جائے اور انسانی اسمگلنگ پر کنٹرول کے اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ ’’آپریشن مسکان‘‘ کیلئے محکمہ کی جانب سے محکمہ لیبر‘ ادارہ جات مقامی اور محکمہ پولیس کی مدد حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ان کی اعانت کے ذریعہ آپریشن کو بااثر بنایا جاسکے۔گمشدہ بچوں کے مانباپ کے ریکارڈ اور گمشدہ بچوں کی جانچ کے بعد ان کے خاندانی پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں ملوانے کیلئے کئے جانے والے اس آپریشن کے دوران ان محکمہ جات کی مد دحاصل کرنے کا مقصد انہیں باخبر رکھتے ہوئے ان بچوں تک رسائی حاصل کرنا ہے جو انسانی اسمگلنگ کا شکار ہوتے ہوئے ایسے گینگس کے ہاتھ لگے ہیں جو بچوں سے گداگری کرواتے ہیں۔محکمہ بہبود خواتین و اطفال کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں کئے جانے والے اس منفرد آپریشن کے ذریعہ بچوں کی جانچ کی جائے گی اور انہیں ریسکیو ہوم یا ان کے والدین کے پاس روانہ کرنے کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔بتایاجاتا ہے کہ اس مہم کے دوران شہر و اضلاع میں درگاہوں‘ مساجد‘ منادر‘ بس اسٹینڈ‘ ریلوے پلیٹ فارم اور دیگر ایسے مقامات کی جانچ کی جائے گی جہاں یہ بچے رات کے وقت قیام کرتے ہیں ۔محترمہ لکشمی دیوی نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران دستیاب ہونے والے ان بچوں کو جن کے ماں باپ نہیں ہیں یا ان کے سرپرستوں کا انہیں کوئی علم نہیں ہے انہیں ایسے کھلے مقامات پر قیام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ انہیں بچوں کی نگہداشت کے لئے موجود ریسکیو ہوم روانہ کیا جائے گا جہاں ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام رہے گا ۔

TOPPOPULARRECENT