Thursday , January 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گنا کاشت کاروں کو واجب الادا رقم ادا کرنے کی ہدایت

گنا کاشت کاروں کو واجب الادا رقم ادا کرنے کی ہدایت

ہائی کورٹ کے احکام پر ریاستی حکومت کی جانب سے مل مالکین کو نوٹس

ہائی کورٹ کے احکام پر ریاستی حکومت کی جانب سے مل مالکین کو نوٹس
بیدر /23 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) گزشتہ سال بیلگام سورنا سدھا میں اسمبلی اجلاس کے موقع پر گنا کاشت کاروں کے احتجاج کے دوران ایک کاشت کار کی خودکشی کے بعد ریاستی حکومت نے گنا کاشت کاروں کو راحت پہنچانے انھیں فی ٹن گنا کارخانوں کو فراہم کرنے پر 150 روپئے کی امدادی رقم اور کارخانہ مالکوں کو ٹیکس میں 100 روپئے کی چھوٹ کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس سال گنا کے کاشت کاروں اور مل مالکوں کو دی جانے والی یہ امداد منسوخ کردی جائے گی۔ مرکزی حکومت نے اس سال ایف آر پی قیمت 2200 روپئے فی ٹن مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے اپنی جانب سے دی جانے والی یہ امداد بند کردینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج یہاں ودھان سدھا میں وزیر برائے شکر ایچ ایس مہادیوپا نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال فی ٹن گنے کی ایف آر پی قیمت 2100 روپئے تھی، جس میں مرکزی حکومت نے 100 روپئے کا اضافہ کرکے یہ حکم دیا تھا کہ یہ قیمت مل مالکوں کو کاشت کاروں کو گنا فراہم کرنے پر 14 دنوں کے اندر ادا کرنی ہوگی۔ ماہ مارچ میں کارخانہ مالکان اپنا سالانہ حساب کتاب تیار کرتے ہیں اور انھیں حساب کتاب تیار کرنے کے بعد ملاسس بجلی کی پیداوار سمیت جو دیگر ضمنی اشیاء سے انھیں آمدنی ہوتی ہے، یہ رقم انھیں کاشت کاروں میں تقسیم کرنی ہوگی۔ اسی طرح اب کاشت کاروں کو کارخانہ سے ہی فی ٹن گنا کے لئے 2500 روپئے تک کی رقم حاصل ہوگی۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کی ہدایت پر مل مالکوں کو نوٹس جاری کی ہے کہ کاشت کاروں کو واجب الادا رقم فوری طورپر ادا کردی جائے، ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ریاست میں حکومت کی زیر تحویل چار کارخانوں کو چھوڑکر باقی 56 شکر کارخانوں سے کاشت کاروں کو 1802 کروڑ کی رقم وصول ہوئی ہے۔ یہ رقم کاشت کاروں کو فوری ادا کرنے حکومت نے نوٹس جاری کی ہے۔ گزشتہ سال ریاست کے 60 شکر کارخانوں میں 383 لاکھ ٹن گنا کرش کیا گیا تھا اور شکر کارخانہ مالکوں کی طرف سے کاشت کاروں کو 90,349 کرور روپئے ادا کرنے تھے۔ شکر کی قیمت کھلے بازار میں کم ہوجانے سے مرکزی حکومت نے مل مالکوں کی مدد کے لئے آگے آکر انھیں 967 کروڑ روپئے بلاسودی قرض فراہم کیا تھا اور اس رقم سے ہی کاشت کاروں کے بقایہ جات ادا کرنے کی ہدایت دی تھی، مگر مل مالکوں نے باقی رقم ادا نہیں کی تھی۔ اب ریاستی حکومت نے انھیں ہدایت دی ہے کہ باقی رقم ادا کرنے کے ساتھ گنا خریدنے کے بعد 14 دنوں کے اندر انھیں رقم ادا کرنی ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT