Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / گنبدان قطب شاہی کی 23 مساجد کی عظمت رفتہ بحالی کا کام تیزی سے جاری

گنبدان قطب شاہی کی 23 مساجد کی عظمت رفتہ بحالی کا کام تیزی سے جاری

عرصہ دراز سے کھنڈر اور گوداموں میں تبدیل مساجد تیزی سے اپنی اصلی حالت کی سمت

عرصہ دراز سے کھنڈر اور گوداموں میں تبدیل مساجد تیزی سے اپنی اصلی حالت کی سمت
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اپریل : ( ابوایمل ) : شہر حیدرآباد کی 400 سال سے زائد کی تاریخ دنیا بھر کی چند قدیم تہذیبوں اور تمدن میں شامل ہوتی ہے اور حیدرآباد کا مرکز گولکنڈہ ہیروں کی عالمی منڈی میں ایک روشن باب ہے جب کہ گولکنڈہ پر حکومت کرنے والے قطب شاہی خاندان کے بادشاہوں اور ان کے عزیز واقارب کا شاہی قبرستان ’ گنبدان قطب شاہی یا 7 گنبدوں ‘ کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ قطب شاہی گنبدان 108 ایکڑ اراضی پر محیط ہیں جس میں 70 یادگاریں موجود ہیں لیکن عوام کی اکثریت اس حقیقت سے واقف نہیں کہ اس گنبدان کے احاطے میں 23 مساجد بھی ہیں ۔ گنبدان قطب شاہی میں جہاں 70 یادگاریں ہیں وہیں ان میں 7 گنبدان قطب شاہی حکمرانوں کی آخری آرام گاہیں ہیں جب کہ 30 ایسے گنبدان بھی ہیں جو کہ ان سلاطین کے رشتہ داروں کے ہیں ۔ احاطے میں موجود 23 مساجد میں صرف ایک مسجد عالمگیر ہی آباد ہے ۔ اس کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد صرف 24 گھنٹوں میں تعمیر ہوئی تھی اوراس مسجد میں یہاں آنے والے سیاحوں اور دوسرے مقامی افراد کو نماز ادا کرتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن دیگر 22 غیر آباد مساجد کی نہ صرف تزئین نو کا کام جاری ہے بلکہ 440 سال پہلے ان مساجد کی جو عظمت تھی وہ بحال ہونے جارہی ہے ۔ آغا خان ٹرسٹ نے ایک سو کروڑ روپئے کے پراجکٹ کے تحت گنبدان قطب شاہی کی عظمت رفتہ بحال کرنے کا کام شروع کردیا ہے جس کے تحت ایک طویل عرصے سے غیر آباد ان مساجد جو کہ کھنڈر اور گودام میں تبدیل ہوگئے تھے ان کی عظمت رفتہ بحال ہوجائے گی ۔ آغا خان ٹرسٹ کی جانب سے مساجد کی تزئین نو کا کام شروع ہوچکا ہے ۔ جب کہ یہ پراجکٹ 8 سال میں مکمل ہوگا تاہم 2 سال قبل شروع ہوئے اس پراجکٹ کے تحت چند مساجد کو اپنی اصلی حالت میں لاکھڑا کیا گیا اور ان مساجد کی عظمت رفتہ بحال ہونے کے بعد فن تعمیر کے شاہکار اللہ کے ہر گھر ایمانی حرارت کو تازہ کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT