Wednesday , December 12 2018

گنٹور کے مسلمانوں پرظلم کیخلاف سی پی آئی ایم کا احتجاج جنگ کے میدان میں تبدیل

احتجاجیوں پر پولیس کی طاقت بربریت کی مثال،
درجنوں گرفتار، ضمانت میں رکاوٹ، پی مدھو بھی احتجاجیوں میں شامل
حیدرآباد ۔ 15 جولائی (سیاست نیوز) گنٹور کے مسلمانوں پر پولیس ظلم کے خلاف سی پی آئی ایم کا احتجاج جنگ کے میدان میں بدل گیا۔ گھروں پر نظربند کرنے اور شہر کی عملاً ناکہ بندی کے باوجود احتجاج کرنے والے قائدین پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم و بربریت کی مثال قائم کردی۔ پولیس کے لاٹھی چارج اور سی پی آئی ایم کے اعلیٰ قائدین کو گرفتار کرنے کے مناظر نے کشمیر کی یاد تازہ کروادی۔ یاد رہیکہ رمضان المبارک میں عیدالفطر سے قبل مسلم لڑکی کی عصمت ریزی کرنے والے کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس ظلم ڈھا رہی ہے اور قدیم گنٹور علاقہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جارہے پولیس ظلم کے خلاف کوئی آواز اٹھانے والا نہیں حالانکہ برسراقتدار تلگودیشم اور موجودہ رکن اسمبلی وائی ایس آر سی پی مسلمانوں کے تحفظ کیلئے بلند بانگ دعوے کررہے ہیں۔ اس ظلم و زیادتی کی اطلاع کے ساتھ ہی سابق رکن راجیہ سبھا سی پی آئی ایم مسٹر پی مدھو نے احتجاج کا اعلان کردیا اور بائیں بازو کی ایک اور طاقتور جماعت سی پی آئی بھی مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم کو روکنے کے محاذ میں شامل ہوگئی۔ مسٹر مدھو نے سارے علاقہ آندھراپردیش میں احتجاج بلند کرنے کا اعلان کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری انصاف کرے۔ اس خصوص میں گذشتہ روز اس متاثرہ علاقہ میں پیدل یاترا کا فیصلہ کیا گیا اور متاثرین سے ملاقات کرتے ہوئے انصاف کی مانگ کی گئی تھی۔ تاہم پیدل یاترا سے ایک دن قبل ہی سی پی آئی ایم قائدین کے مکانات پر انہیں عملاً نظربند کردیا گیا اور سارے علاقہ میں پولیس کی ناکہ بندی کردی گئی۔ تاہم اعلان کے مطابق سی پی آئی ایم قائدین قدیم گنٹور کے علاقہ مسجد سنٹر پہنچ گئے اور احتجاج منظم کیا۔ اس موقع پر پولیس کی ظلم و زیادتی اور انسانی حقوق کی پامالی کی مثال نہیں ملتی۔ اس موقع پر پولیس کو شدید برہمی کا نشانہ بناتے ہوئے سابق رکن راجیہ سبھا مسٹر پی مدھو نے کہا کہ گنٹور قدیم شہر کے مسلمانوں پر پولیس کا ظلم گذشتہ 50 دن سے جاری ہے۔ تاہم افسوس کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرنا اور انہیں عید سے قبل گرفتار کرنا اور ایک سونچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جبکہ پولیس بے قصور مسلمانوں پر بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے احتجاج کو سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ انہوں نے پولیس کی کارروائی کو متعصبانہ اور سیاسی سازش کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ سی پی آئی ایم کے احتجاج کے بعد گرفتار درجنوں افراد میں سے صرف 6 کی ضمانت کیلئے حائل رکاوٹ دور کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT