Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / گوا اور منی پور میں بی جے پی حکومتو ںکے قیام کیخلاف احتجاج

گوا اور منی پور میں بی جے پی حکومتو ںکے قیام کیخلاف احتجاج

گورنروں کی برطرفی اور کانگریس حکومت کے قیام کی اجازت کا مطالبہ، راجیہ سبھا اجلاس متعدد مرتبہ ملتوی
نئی دہلی ۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) گوا اور منی پور میں بی جے پی حکومتوں کے قیام کے خلاف کانگریس کے شدید احتجاج کے سبب آج راجیہ سبھا کا اجلاس درہم برہم ہوگیا۔ تاہم حکمراں جماعت نے دعویٰ کیا کہ ان ریاستی حکومتوں کی تشکیل میں جمہوری قواعد پر عمل کیا گیا ہے۔ کانگریس کے ارکان نے ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے گڑبڑ و ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ دونوں ریاستوں میں کانگریس حکومتوں کی تشکیل اور گورنروں کی برطرفی کے مطالبہ کے ساتھ بڑے پیمانے پر شوروغل کے سبب متعدد مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ گوا اور منی پور میں کانگریس ہی واحد بڑی جماعت کی  حیثیت سے ابھری ہے لیکن بی جے پی نے محض گورنروں کی مدد سے اپنی حکومتیں قائم کی ہے۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ’’بی جے پی نے دستور اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گوا اور منی پور میں اپنی حکومتیں تشکیل دی ہے۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ جوں کا توں موقف برقرار رکھا جانا چاہئے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گوا اور منی پور کے گورنروں کو برطرف کیا جائے اور دونوں ریاستوں میں کانگریس کے چیف منسٹروں کو حلف لینے کا موقع دیا جائے‘‘۔ کانگریس کے قائد نے ادعا کیا کہ کانگریس پارٹی ان دونوں ریاستوں میں بی جے پی حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔ راجیہ سبھا کو ان دونوں گورنروں کے رول کے خلاف ایک قرارداد منظور کرنا چاہئے۔ وزیرفینانس و قائد ایوان بالا ارون جیٹلی نے تاہم یہ استدلال پیش کیا کہ گوا اور منی پور میں جمہوری قواعد و ضوابط کے مطابق حکومتوں کا قیام عمل میں آیا ہے۔ جیٹلی نے جھارکھنڈ کی مثال دی جہاں ان کی پارٹی بی جے پی کو 81 رکنی ایوان میں 30 نشستیں حاصل ہوئی تھیں لیکن اس پارٹی کے بجائے جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے جس کے صرف 17 ارکان تھے، دیگر جماعتوں کی تائید سے مخلوط حکومت بنائی تھی۔ جیٹلی نے کہا کہ 1998ء میں جب واجپائی حکومت تشکیل دی گئی تھی اس وقت کے صدرجمہوریہ (کے آر نارائنن) نے حکومت سازی کو ملحوظ رکھتے ہوئے متبادل مخلوط گروپ کو تشکیل حکومت کیلئے مدعو کیا تھا۔ جیٹلی نے کہا کہ جمہوریت میں اقلیتی گروپ نہیں بلکہ اکثریتی تائید یافتہ جماعت حکومت تشکیل دیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT