Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / گوا ‘ منی پور میں بی جے پی حکومتوں کے خلاف لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

گوا ‘ منی پور میں بی جے پی حکومتوں کے خلاف لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

نئی دہلی 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس اور اس کی یو پی اے حلیف جماعتوں نے گوا اور منی پور میں بی جے پی حکومتوں کے قیام کیلئے کوششوں پر آج لوک سبھا میں سخت احتجاج کیا ۔ کانگریس نے اس مسئلہ پر ایوان سے دو مرتبہ واک آوٹ کیا ۔ کانگریس نے ایوان میں یہ مسئلہ کئی بار اٹھانے کی کوشش کی ۔ وقفہ سوالات کے دوران بھی یہ مسئلہ اٹھانا چاہا تاہم اسپیکر سمترا مہاجن نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی ۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں گوا اور منی پور میں بی جے پی ‘ واحد بڑی جماعت بن کر نہیں ابھری ہے اس کے باوجود اس کی جانب سے وہاں حکومتوں کے قیام کی کوششوں کی کانگریس پارٹی شدت سے مخالفت کر رہی ہے ۔ کانگریس ‘ این سی پی اور آر جے ڈی کے ارکان نے وقفہ سوالات کے دوان یہ مسئلہ اٹھایا ۔ ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے ادعا کیا کہ ان کوششوں سے جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ جب اسپیکر نے کہا کہ وہ ایوان میں وقفہ سوالات کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دینگی اور یہ مسئلہ وقفہ صفر کے دوران اٹھایا جانا چاہئے ملکارجن کھرگے نے کہا کہ اگر انہیں یہ مسئلہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائیگی تو پھر وہ کہاں جائیں گے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ چونکہ کانگریس لیڈر کی جانب سے سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ایسے میں یا تو انہیں ریکارڈ سے حذف کیا جانا چاہئے یا پھر حکومت کو جواب دینے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔اسپیکر نے کہا کہ ایوان میں سوالات کے سوا کسی اور بات کو ریکارڈ پر جانے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ اس وقت کانگریس ‘ این سی پی اور آر جے ڈی کے ارکان نے ایوان سے واک آوٹ کیا ۔ ایوان میں واپسی کے بعد بھی کانگریس ارکان نے پھر یہ مسئلہ اٹھانے کی کوشش کی ۔ جب کھرگے نے گوا کے گورنر کی جانب سے بی جے پی کو تشکیل حکومت کی دعوت دئے جانے کا مسئلہ اٹھایا تو سمترا مہاجن نے کہا کہ آپ گورنر پر ایوان میں بحث نہیں کرسکتے ۔ وہ دستوری اتھاریٹی ہیں۔ اس وقت کانگریس کے ارکان نے دوبارہ ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ کانگریس گوا اور منی پور میں واحد بڑی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن بی جے پی کو وہاں حکومت سازی کیلئے دعوت دی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT