Wednesday , December 19 2018

گوا میں اکثریت ثابت کرنے کانگر یس کا دعویٰ ،اسمبلی اجلاس کی طلبی کا مطالبہ

پاریکر کے غیاب میں نظم و نسق ٹھپ ، بی جے پی کی ہوسِ اقتدار نے دستور کو یرغمال بنالیا : سرجے والا

پناجی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے گوا کی گورنر مریدولا سنہا سے قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے بی جے پی زیرقیادت مخلوط حکومت کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اپوزیشن جماعت کانگریس یہ دعویٰ کررہی ہے کہ علیل چیف منسٹر منوہر پاریکر کی دفتر سے مسلسل غیرحاضری کے سبب ریاستی حکومت لیت و لعل اور غیر یقینی کی شکار ہوگئی ہے اور الزام عائد کیا کہ مرکز میں بی جے پی اور گورنر کی طرف سے گوا کے عوام کو دھوکہ دینے کی یہ ایک کلاسیکی مثال ہے ۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ سرمائی پارلیمانی سیشن کے دوران ان کی پارٹی اس مسئلہ کو اٹھائے گی ۔ علاوہ ازیں صدر رام ناتھ کوند سے بھی نمائندگی کی جائے گی ۔ کانگریس نے صدرجمہوریہ اور گورنر گوا کو یادداشت پیش کی اور دعویٰ کیا کہ 40 رکنی ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کے لئے اس کے پاس ارکان کی درکار تعداد موجود ہے ۔ سرجے والا نے کہا کہ ’اکثریت ثابت کرنے کے لئے خصوصی اجلاس کی طلب پر ہمارے مطالبہ کی پذیرائی کے لئے صدرجمہوریہ سے نمائندگی کی جائے گی ۔ علاوہ ازیں پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بی جے پی کی قیادت پر بھی ہم دباؤ ڈالیں گے ‘‘ ۔ سرجے والا نے دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینس (ایمس) میں علاج کے بعد گھر پر آرام کرنے والے چیف منسٹر کے دفتر سے غیاب میں ریاستی حکومت کی مؤثر انداز میں کارکردگی کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقتدار کی ہوس میں بی جے پی نے دستور کو یرغمال بنالیا ہے ۔

دھاویلکر کو گوا کا چیف منسٹر بنانے بی جے پی کی
حلیف ایم جی پی کا الٹی میٹم
پناجی ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) گوا میں بی جے پی کی حلیف مہاراشٹرا وادی گوماننگ پارٹی (ایم بی پی) نے آج الٹی میٹم دیا ہے کہ چیف منسٹر منوہر پاریکر کی مسلسل علالت کے پیش نظر اس (ایم جی پی) کے وزیر سُدین دھاویلکر کو چیف منسٹر کے عہدہ کا چارج دیا جائے۔ ایم جی پی نے دھمکی دی کہ اگر یہ مطالبہ پورا نہ کئے جانے کی صورت میں وہ ریاست میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کے خلاف مقابلہ کرے گی ۔ پاریکر نے جنہیں لبلبہ کا کینسر ہوگیا ہے نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینس(ایمس) سے /14 اکٹوبر کو ڈسچارج ہونے کے بعد سے اپنی رہائش گاہ پر ہی آرام کررہے ہیں ۔ واضح رہے کہ 40 رکنی اسمبلی کی دو نشستیں گزشتہ ماہ مخلوعہ ہوگئیں جب کانگریس کے دو ارکان دیانند سوپٹے اور سبھاش شیروڈکر نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔

TOPPOPULARRECENT