Sunday , June 24 2018
Home / Top Stories / گوا میں بیف کی شدید قلت ، سربراہی سے کرناٹک کا انکار

گوا میں بیف کی شدید قلت ، سربراہی سے کرناٹک کا انکار

گاؤ رکھشا گروپوں کی ہراسانی کے خاتمہ تک سربراہی بحال نہ کرنے قریش تنظیم کا فیصلہ

پاناجی ۔ /7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) گوا میں آئندہ دو دن تک بیف (بڑے جانور کے گوشت) کی قلت کا سامنا رہے گا کیونکہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے مسلخ گاہوں نے گاؤ رکھشا کے نام پر دہشت گرد غنڈہ گردی کرنے والے گروپوں کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی روکنے کے لئے (گوا) حکومت کی طرف سے اقدامات نہ کئے جانے تک گوشت کی سربراہی جاری رکھنے سے انکار کردیا ہے ۔ ساحلی ریاست کو بیف کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ مقامی تاجرین نے گاؤ رکھشکوں کی جانب سے جاری مبینہ ہراسانی کے سبب کرناٹک سے گوشت کی درآمد روک دی ہے ۔ تاجرین گوشت کی ایک تنظیم نے قبل ازیں کہا کہ اس کے ارکان نے کرناٹک کے ضلع بلگاؤں سے گوشت کی خریدی بند کردی ہے ۔ آل گوا قریشی میٹ ٹریڈرس اسوسی ایشن کے صدر منابیپاری نے پی ٹی آئی سے کہا کہ چیف منسٹر منوہر پاریکر گزشتہ روز انہیں اس مسئلہ پر پولیس سے بات چیت کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ تاہم چیف منسٹر فی الحال شہر سے باہر ہیں ، توقع ہے کہ دو دن بعد ہی واپس ہوں گے ۔ منا بیپاری نے مزید کہا کہ ’’کرناٹک کے گوشت سربراہ کنندگان نے واضح طور پر کہا تھا کہ نام نہاد اور خود ساختہ گاؤ رکھشکوں کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے تک گوشت کی سربراہی بحال نہیں کی جائے گی ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی ریاست کو واپسی کے بعد ہی کسی کارروائی کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ چنانچہ اس وقت تک سربراہی بحال نہیں ہوگی ۔ منا بیپاری نے کہا کہ بلگاؤں سے گوا کو روزانہ تقریباً 25 ٹن گوشت لایا جاتا ہے ۔ بشمول گاؤ رکھشا ابھیان مختلف گاؤ رکھشا تنظیموں کا الزام ہے کہ کرناٹک کے غیر قانونی مسالخ سے گوا کو گوشت لایا جاتا ہے۔ لیکن بیپاری نے اس الزام کی تردید کی ہے ۔ منا بیپاری نے مزید کہا کہ بیف کی عدم دستیابی کے سبب گوا میں مٹن اور چکن کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہوا ہے ۔ گوا کی پڑوسی ریاست مہاراشٹرا میں بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بیف پر سخت امتناع عائد کیا جاچکا ہے لیکن بی جے پی کے ہی زیراقتدار گوا میں جہاں عیسائیوں کی غالب آبادی ہے بیف کسی امتناع کے بغیر بکثرت استعمال کیا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT