Monday , May 28 2018
Home / شہر کی خبریں / گودھرا فسادات کا اثر اب بھی برقرار

گودھرا فسادات کا اثر اب بھی برقرار

عوام کی رائے مذہبی خطوط پر منقسم ، مودی اور راہول نے بھی جلسے نہیں کئے
حیدرآباد۔12ڈسمبر(سیاست نیوز) گجرات فسادات 2002 کااثر اب بھی گودھرا میں محسوس کیا جا رہا ہے اور گجرات اسمبلی انتخابات میں گودھرا کے رائے دہندے اب بھی مذہبی خطوط پر منقسم ہیں۔رائے دہندوں میں پائی جانے والی اس دوری کے خاتمہ کیلئے کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے بلکہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مقامی سطح پر عوام مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں لیکن رائے دہی کے معاملہ میں ان کے اپنے ذہنی تحفظات برقرار ہیںاور مذہبی خطوط پر ہی رائے دہی کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ گودھرا ٹرین واقعہ کے بعد بھڑک اٹھنے والے فسادات نے گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کی تاریخ رقم کی تھی اور اس کے اثرات اب بھی یہاں کے بسنے والے شہریوں پر پائے جاتے ہیں۔ گودھرامیں عوامی شعور اجاگر کرنے اور انہیں فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے متحد کرنے کیلئے کی جانے والی کوششیں رائیگاں ثابت ہونے کے بعد غیر سرکاری تنظیموں نے بھی اس علاقہ کو چھوڑ دیا ہے۔ گودھرا میں وزیر اعظم اور راہول گاندھی دونوں نے ہی کوئی جلسہ یا انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا اور اس طریقہ سے خود کو گودھرا سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ گودھرا میں اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے تاجرین کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصہ میں جی ایس ٹی ‘ کرنسی تنسیخ اور دیگر وجوہات کی بناء پر کاوبار انتہائی سست روی کا شکار ہے اور شادیوں کا موسم ہونے کے باوجود جس طرح کی تجارتی سرگرمیاں ہونی چاہئے تھی اس طرح کی تجارتی سرگرمیاں نظر نہیں آرہی ہیں جو کہ تشویشناک ہے لیکن اس کے باوجود بھی رائے دہی کے معاملہ میں کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی اور وہی کیا جائے گا جو اب تک کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح اقلیتی طبقہ کی جانب سے بنیادی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ان کی اپنی بستیوں کے مسائل گذشتہ 15 برسوں کے دوران حل نہیں ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود جو دراڑ ہے وہ برقرار ہی ہے اور اس کے دور ہونے کے کوئی امکان نظر نہیں آرہے ہیں اور نہ ہی سیاسی سطح پر ان دوریوں کو ختم کرتے ہوئے سب کو مساوی سہولتوں کی فراہمی کے عہد کی پابندی کی جا رہی ہے اسی لئے اقلیتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کریں گی۔ امیدوار کی شکست یا کامیابی کے آثار کااس علاقہ کے رائے دہندوں پر کوئی اثر نہیں ہے بلکہ اس علاقہ کے عوام کا کہنا ہے کہ اب تک موجود ان کے بیچ دوریوں کوختم کرنے کی کوشش کرنا بھی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری اور علاقہ کی نمائندگی کرنے والے منتخبہ نمائندوں کا کام تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے جس کے سبب ایک اور الیکشن گودھرا میں فرقہ وارنہ بنیاد پر ہو جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT