Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ اور عدلیہ

گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ اور عدلیہ

ہم اپنے صبر کی سرحد پہ آکے ٹہرے ہیں
تمہارا کام ہے جو چاہو فیصلہ کرنا
گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ اور عدلیہ
گودھرا ٹرین آتشزنی واقعہ کی حق گوئی پر مزید بحث ہونی چاہئے مگر جب عدالتوں کے اندر ثبوت اور گواہوں کو ایک منظم طریقہ سے تیار و پیش کیا جاتا ہے تو انصاف کے حصول کی کوشش کو ناکام بھی بنادیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں جھوٹ اور من گھڑت مقدمات کا ہوا سیاسی مقصد براری سے جاملتا ہے۔ گودھرا ٹرین واقعہ میں عدلیہ ، سماج کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئی ہے یا اس سے قانون کے نفاذ کی راہ مزید مضبوط ہوئی ہے یہ سوال سیاسی ایوانوں سے نکلنے والی ہدایتوں سے ٹکراکر دم توڑ دیتا ہے ۔ اس آتشزنی واقعہ کے بعد کئی شبہات پیدا ہوئے لیکن سیاسی طاقت جب قانون کی راہ میں حائل ہوتی ہے تو فیصلوں اور سزاؤں کارُخ بھی بدل جاتا ہے ۔ گودھرا کے بعد گجرات فسادات میں ہزاروں انسانوں کی موت کے ذمہ داروں کی سیاسی طاقت میں زبردست اضافہ کے درمیان گجرات ہائیکورٹ نے پیر کے دن 11 سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاء کو عمرقید میں تبدیل کردیا ہے جبکہ دیگر 20 کی عمرقید کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ تحت کی عدالت نے جن 11 افراد کو سزائے موت دی تھی اس سزا کو ہائیکورٹ نے عمرقید میں تبدیل کردیا گویا قانون کا دل ہوتا ہے اور وہ رحم کی نگاہ سے بھی فیصلہ سناسکتا ہے ۔ سزا یافتگان کی پیروی کرنے والے وکلاء میں سے ایک کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ کے شواہد کو ترتیب دیا گیا اور گواہوں کو طوطے کی طرح رٹا دیا گیا تھا ۔ ان نکات کی بنیاد پر گجرات ہائیکورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اگلاقدم اٹھایا جائے گا ۔ گجرات ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ کے جسٹس اننت ایس دیو اور جی آر ادھوانی نے ریاست گجرات میں لاء اینڈ آرڈر کی برقراری میں ناکام ہونے کا بھی الزام عائد کیا اور ٹرین واقعہ میں ہلاک 59 افراد کے ارکان خاندان کو فی کس 10 لاکھ روپئے معاوضہ دینے کی بھی ہدایت دی ۔ بنچ نے کہاکہ تحت کی عدالت نے اپنے فیصلہ میں اس موضوع سے نہیں نمٹا اور یہ کہ آتشزنی میں جھلس جانے والے زخمیوں کے ساتھ بھی انصاف نہیں کیا گیا ۔ زخمیوں کو بھی معاوضہ دیئے جانے کا ریاستی حکومت فیصلہ کرے گی ۔ 27 فبروری 2002 کو گودھرا ریلوے اسٹیشن پر پیش آیا واقعہ منظم سازش کا حصہ بتایا گیا یا اقتدار تک پہونچنے کے لئے پہلے زینہ کی تلاش کے طورپر انسانوں کی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا ۔ اس سچائی پر اب تک پردے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کیس دیانتداری کے ساتھ تنقیح کا متقاضی ہے لیکن جس نیت و مقصد کے ساتھ گودھرا واقعہ کو رونما کیا گیا مابعد گودھرا آزاد ہند کا بدترین مسلم کش فساد برپا کیا گیا ۔ یہ سارا کھیل آج کی سیاسی طاقت کے پس پردہ ہاتھوں کا ہونے کے شبہات کو قطعیت دینے کے باوجود انصاف کے حصول کا رُخ مختلف ادوار میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔ گجرات ہائیکورٹ نے اس کیس میں تحت کی عدالت کے فیصلہ کو تبدیل کرنے سے انکار کیا ، کیوں کہ تحت کی عدالت نے مولوی عمرجی کے بشمول 63 افراد کو کیس سے بری کردیا تھا ۔ مولوی عمر کو اس کیس میں اصل سازشی ذہن کے طورپر ماخوذ کیا گیا تھا ۔ اب اس کیس کی خامیوں اور خرابیوں اور سازشوں کی گتھی اس ایک نقص سے سلجھ جائے گی ۔ جب عدالت نے اصل سازشی ذہن میں ماخوذ مولوی عمر کو بری کردیا تھا تو ماباقی سزائے عمرقید یا سزائے موت پانے والے ملزمین کے بارے میں عدلیہ کی رائے صرف عدالت کے سامنے پیش کردہ من گھڑت شواہد اور تربیت یافتہ گواہوں کی گواہی کے بعد ہی سامنے آئی ہے ۔ گجرات کی حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس ٹرین آتشزنی کی ’’مجرمانہ سازش‘‘ پاکستان میں رچائی گئی تھی لیکن حکومت نے اپنے اس ادعا میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ۔ گودھرا ملزمین کے بارے میں سوچا جائے تو اس میں سے کئی ایک کے بارے میں یہی سنا جاسکتا ہے کہ یہ کسی تشدد میں ملوث نہیں تھے لیکن ان لوگوں نے اس گودھرا واقعہ میں کس طرح بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہ تعجب خیز ہے جس پر غور کرنے کی قانون کو توفیق نہ ہوسکی۔ قانون یا اس کے رکھوالوں نے اس بات کا بھی نوٹ نہیں لیا کہ ایودھیا سے واپس ہونے والے 1700 کارسیوکوں نے ساتھی مسلم پاسنجروں کے ساتھ زور زبردستی کیوں کی اور انھیں جئے شری رام کا نعرہ لگانے کیلئے مجبور کیوں کیا؟ ۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اپنی عبوری رپورٹ میں اس بات پر اظہار حیرت کیا تھا کہ ٹرین میں موجود پولیس اسکواڈ کے بشمول کسی نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی ۔ ٹرین میں سوار کارسیوکوں کی نفرت پر مبنی حرکتوں نے جن واقعات کو جنم دیا ہے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ہندوستان کو نفرت نشان بناکر سیاسی طاقتوں نے اپنا مقصد پورا کرلیا ہے ۔ اب عدلیہ اور قانون کا رول صرف بے قصور افرادکو سزا دینے یا تبدیل کرنے تک ہی رہ جائے تو پھر ہندوستان میں حصول انصاف کی تعریف بھی تبدیل ہوجائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT