Thursday , December 13 2018

گودھرا کے مسلمان، ماضی کو فراموش کرنے کے خواہاں ، روزگار پر توجہ

مذہبی خطوط پر منقسم عوام کو کاروبار نے متحد کردیا ، ہندو ووٹرس بھی بی جے پی حکومت سے ناخوش ، برقی مسدودی اور ناقص انفراسٹرکچر اہم مسائل برقرار

گودھرا۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) رسوائے زمانہ فسادات کے 15 سال بعد گودھرا اب اپنے اس خوفناک ماضی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کیلئے تیار ہوچکا ہے۔ گودھرا کے اکثر افراد گجرات کے اس ٹاؤن میں 2002ء کے دوران ہوئے فسادات اور تشدد کی یادوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس مسئلہ کے بجائے اب وہ روزگار، برقی کی قلت اور انفراسٹرکچر کی ناقص صورتحال پر جیسے موضوعات پر زیادہ زور دینا چاہتے ہیں۔ گودھرا کے ووٹرس سمجھتے ہیں کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں یہی وہ مسائل ہیں جن پر توجہ مرکوز کی جائے۔ ریاست میں جاری انتخابی مہم میں اس مرتبہ گودھرا کا واقعہ سیاسی قائدین کے جلسوں کا موضوع نہیں بنا ہے جس پر مقامی نوجوان 30 سالہ محمد عاصم کافی خوش ہیں، تاہم گودھرا میں موٹر سائیکل میکانک ہیں اور ایک کارخانہ چلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے خوشی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے کسی بڑے لیڈر نے اس مرتبہ گودھرا کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ کیا اس (مسئلہ) سے ہمیں دو وقت کا کھانا مل سکتا ہے؟ جی نہیں! بالکل نہیں بلکہ اس سے ہماری بدنامی ہوئی ہے‘‘۔ گودھرا ایک طویل عرصہ سے کانگریس کا طاقتور گڑھ رہا ہے جہاں اس پارٹی کے امیدوار راجیندر پٹیل اور اس کے سابق رکن اور موجودہ رکن اسمبلی کے راول جی کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔ راؤل جی گزشتہ انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے وکٹ کے دوران بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے اور بی جے پی اب انہیں اس حلقہ سے ہی اپنا امیدوار نامزد کی ہے جس پر برہم جسونت پرمار بی جے پی کے باغی امیدوار کی حیثیت سے مقابلہ کررہے ہیں، جنہیں 2012ء کے انتخابات میں بحیثیت بی جے پی امیدوار شکست ہوئی تھی۔ بی جے پی کے گودھرا میں 2007ء سے کوئی کامیابی نہیں ملی ہے اور وہ امید کررہی ہے کہ اس مرتبہ راول جی کے امیدوار ہونے کے سبب جیت جائے گی۔ پرمار اور پٹیل کا تعلق پسماندہ بخشی پنچ طبقہ سے ہے جس کے اس حلقہ میں 90,000 ووٹرس ہیں چنانچہ بی جے پی کارکنوں کی توقع ہے کہ دو طاقتور امیدواروں میں ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ راول جی کو ہوگا، لیکن اس حلقہ میں 50,000 مسلم ووٹرس اور دیگر طبقات کے ووٹرس بھی ہیں جو ہمیشہ کانگریس کی تائید کرتے رہے ہیں۔ چند ہندو علاقوں میں ذات پات کا عنصر ان انتخابات میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اس علاقہ میں ایک چھوٹی دوکان چلانے والی شانتی کا تعلق بخشی پنچ طبقہ سے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذات کے کسی امیدوار کو ووٹ دینا چاہتی ہے۔ ایک اور ووٹر دنیش پٹیل کا تعلق پائیدار طبقہ سے ہے، تاہم عاصم کی طرح شانتا اور دنیش بھی برقی مسدودی جیسے مسائل پر کافی فکرمند ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ان مسائل سے ان کا کاروبار متاثر ہوا کرتا ہے۔ سگنل فاڈیہ کے قریب ایک مسجد کے باہر بیٹھے ہوئے حسین عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ’’جو کچھ ہے بھی ہوچکا ہے، اب وہ ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔ ہمیں روزگار کی ضرورت ہے، کیونکہ اکثر مسلم بچے چھوٹے موٹے جزوقتی کام کررہے ہیں۔ ہندو اور مسلم محلہ جات میں بری طرح منقسم گودھرا میں محتلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے عوام کو بزنس نے یکجا و متحد کیا ہے۔ عاصم کی موٹر سائیکل درستگی کی دوکان پر موجود گاہک 25 سالہ رجت نے کہا کہ مذہب کے نام پر تقسیم اب ماضی کا قصہ بن گئی ہے۔
رجت نے عاصم کا حوالہ دیتے ہوئے ’’میں شاید ہی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ اس (عاصم) کا مذہب کیا ہے۔ میرے لئے صرف اس بات کی اہمی ہے کہ یہ (عاصم) ایک اچھا میکانک ہے‘‘۔ کانگریس کے حامیوں رحمن اور عاصم نے کہا کہ ان کے پاس مذہب سے پہلے جماعت ہے اور مسلم برادری کانگریس کی تائید کرے گی۔ دنیش اور شانتی کا کہنا ہے کہ وہ ریاستی بی جے پی حکومت سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ان کا احساس ہے کہ بی جے پی حکومت ان کے مسائل کو حل نہیں کی، لیکن ان دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں مودی اور ان کی قیادت پر بھروسہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT