Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / گورنر اروناچل پردیش کیخلاف حکم التواء سے انکار

گورنر اروناچل پردیش کیخلاف حکم التواء سے انکار

سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کا فیصلہ، اروناچل پردیش کانگریس قائدین کو دھکہ
نئی دہلی 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کانگریس قائدین کی درخواست پر عبوری حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا۔ کانگریس نے اروناچل پردیش کے گورنر جے پی راج کھوا کی نئی حکومت کو حلف دلوانے پر حکم التواء جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ اروناچل پردیش فی الحال سیاسی بحران کی وجہ سے صدر راج کے تحت ہے۔ کانگریس نے پانچ رکنی دستوری بنچ پر جس کی صدارت جسٹس جے ایس کھیہر کرتے ہیں، درخواست پیش کی تھی۔ اس بنچ نے ریاست میں جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کی گزارش بھی مسترد کردی۔ اپنے فیصلہ میں جسٹس دیپک مصرا ، جسٹس ایچ بی لوکور، جسٹس پی سی غوث اور جسٹس ایم وی رمنا پر مشتمل دستوری بنچ نے کہاکہ ہم اِس مرحلہ پر دلائل کی سماعت کرچکے ہیں۔ ہم ایسا کوئی حکم جاری کرنے سے انکار کرتے ہیں اور معاملہ کی سماعت حسن و قبح کی بنیاد پر کی جائے گی۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی جنھوں نے یہ جاننے کے بعد کہ کانگریسی قائد نے جوں کا توں حالت برقرار رکھنے کی گزارش کی تھی۔ کہاکہ عدالت دستوری اتھاریٹی کے خلاف قبل ازوقت کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ دستوری اتھاریٹی کو عدالت کالعدم کرسکتی ہے لیکن جو درخواست پیش کی گئی ہے وہ غلط مفروضوں کی بنیاد پر ہے۔ یہ درخواست آج یا کل صدر راج منسوخ کرنے اور حکومت تشکیل پانے کی بات کرتی ہے۔ درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے بنچ نے کہاکہ سینئر وکلاء فلی ایس نریمان اور کپل سبل نے اروناچل پردیش کانگریس قائدین کی پیروی کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ مرحلہ پر عدالتی حکم قطعی مناسب ہوگا کیوں کہ اسمبلی کو معطل کیا گیا ہے اور اگر یہ قائدین اس کو قبول نہیں کرتے۔

ٹاملناڈو اسمبلی میں  محصول سے پاک بجٹ کی پیشکشی

چینائی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت ٹاملناڈو نے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر محصول سے پاک ( ٹیکس فری ) بجٹ پیش کیا اور یہ تیقن دیا کہ معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت نے یہ الزام عائد کیاکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں گراوٹ اور مرکزی فنڈس کی تقسیم میں امتیاز کی وجہ سے معاشی ترقی سست روی کا شکار ہوگئی ہے۔ اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر فینانس اوپیزسلیوم نے کہا کہ ریاست میں محصولیات کی شرح میں کمی بالخصوص کمرشیل ٹیکس کی وصولی میں گراوٹ آئی ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات پر سیلس ٹیکس گھٹ گیا ہے جو کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں تخفیف کا نتیجہ ہے۔ تاہم پیز سلیوم نے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مصارف مکمل قابو میں ہیں اور حکومت کفایت شعاری سے کام لے رہی ہے۔ دریں اثناء اپوزیشن بشمول ڈی ایم ڈی کے، ڈی ایم کے اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بعض مسائل اٹھانے کی اجازت دینے سے انکارپر بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔

 

 

TOPPOPULARRECENT