Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / گورنر اپنی مرضی سے اسمبلی اجلاس طلب نہیں کرسکتے: سپریم کورٹ

گورنر اپنی مرضی سے اسمبلی اجلاس طلب نہیں کرسکتے: سپریم کورٹ

تحریک عدم اعتماد کی منظوری غلط نہیں ۔اروناچل پردیش مسئلہ پر سماعت کے دوران ریمارک
نئی دہلی 8 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اروناچل پردیش کے گورنر جے پی راج کھوا اپنی مرضی سے جب چاہے ریاستی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے اروناچل پردیش میں بحران کا شکار کانگریس زیر قیادت نابم ٹوکی حکومت کی اکثریت کا امتحان لینے اسمبلی اجلاس کو ایک ماہ قبل از وقت طلب کرلیا تھا ۔ جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت والی پانچ رکنی دستوری بنچ نے کہا کہ گورنر اپنی مرضی سے اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کرسکتے ۔ اروناچل پردیش میں ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے تھے کیونکہ ہم ابتداء سے یہ کہتے آ رہے ہیں۔ یہاں صورتحال ایسی نہیں تھی کہ گورنر ایسا کرتے ۔ عدالت نے کہا کہ اگر ٹوکی حکومت کے خلاف کوئی عدم اعتماد کی تحریک منظور کی جاتی تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔ ریاستی اسمبلی میں اسپیکر کو بیدخل کرنے کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی موجودگی میں اسمبلی میں قرار داد منظور کی گئی تھی ۔ عدالت نے یہ ریمارکس اس وقت کئے جب سینئر وکیل راکیش دویدی نے یہ واضح کیا کہ گورنر کو اپنی مرضی سے اسمبلی اجلاس طلب کرنے سے روکا نہیں جاسکتا ۔ مسٹر دویدی کانگریس کے کچھ باغی ارکان اسمبلی کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے تھے ۔ وکیل موصوف کا کہنا تھا کہ اسمبلی اجلاس کی طلبی کیلئے صرف یہ شرط ہے کہ کوئی نہ کوئی کام ہونا چاہئے اور جیسے ہی اجلاس شروع ہوجائے پھر گورنر کا اس میں کوئی رول نہیں رہتا ۔ عدالت میں اس مسئلہ پر مزید سماعت کل ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT