Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / گورنر خطبے میں مسلم تحفظات کا کوئی ذکر نہیں

گورنر خطبے میں مسلم تحفظات کا کوئی ذکر نہیں

بجٹ سیشن … جھلکیاں
ف12 فیصد مسلمانوں کیلئے صرف 8 سطر
حیدرآباد۔ 12مارچ (سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے خطبے میں مسلم تحفظات کے مسئلہ کو نظرانداز کردیا گیا۔ بجٹ سیشن کے آغاز پر دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے سلسلہ میں جو خطبہ تیار کیا گیا اس میں مسلم اقلیت کے کئی اہم مسائل اور حکومت کے وعدے شامل نہیں کیے گئے۔ یوں تو حکومت نے بعض اسکیمات کا ذکر کیا لیکن 12 فیصد مسلم تحفظات اور ایس ٹی تحفظات کا کوئی ذکر شامل نہیں تھا جبکہ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان احتجاج کررہے ہیں۔ مسلم اقلیت کی فلاح و بہبود کے تذکرے کو صرف 8 سطروں میں سمیٹ دیا گیا جبکہ ریاست میں ان کی آبادی تقریباً 12 فیصد ہے۔ اقلیتی بجٹ کے خرچ اور آئندہ بجٹ میں اضافے کا کوئی تذکرہ خطبے میں شامل نہیں تھا۔ گورنر نے کے خطبے میں اقلیتی اسکیمات کے ساتھ ان کے لیے مختص کردہ بجٹ اور خرچ کی تفصیلات شامل کی جانی چاہئے تھیں۔ دونوں ایوانوں سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکان مقننہ کو گورنر کے خطبے پر مایوسی کا اظہار کرتے دیکھا گیا۔ برسر اقتدار پارٹی کے مسلم ارکان بھی مایوس دکھائی دے رہے تھے تاہم انہوں نے کھل کر اظہار خیال سے گریز کیا۔
ایوان میں ویدک اشلوک کی گونج
l گورنر ای ایس ایل نرسمہن جو مذہبی رسومات اور ویدک اشلوکوں کے ماہر بتائے جاتے ہیں، انہوں نے آج دونوں ایوانوں سے خطاب کے دوران اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ خطبے کے آخر میں انہوں نے 5 ویدک اشلوک پڑھے۔ پڑھنے سے قبل گورنر نے اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ یہ کس پس منظر میں پڑھ رہے ہیں اور یہ کس وید سے تعلق رکھتے ہیں۔ عام طور پر سنسکرت کے یہ اشلوک مذہبی تقاریب میں پڑھے جاتے ہیں۔ گورنر نے جس انداز میں یہ اشلوک پڑھے، ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے یہاں کوئی مذہبی تقریب ہورہی ہو۔ اشلوک کا اختتام اوم شانتی شانتی شانتی سے ہوا۔
l   مقررہ پروگرام کے مطابق گورنر ٹھیک 10 بجے خطبے کا آغاز کرنے والے تھے لیکن وہ 5 منٹ تاخیر سے پہنچے لیکن 24 صفحات پر مشتمل اپنا خطبہ 25 منٹ میں مکمل کرلیا اور 10:30 بجے ایوان سے روانہ ہوگئے۔
l   ایوان میں ہر پارٹی اپنے رنگ میں دکھائی دے رہی تھی۔ ٹی آر ایس ارکان پارٹی کا کھنڈوا گلے میں ڈالے ہوئے تھے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو، ڈپٹی چیف منسٹرس اور وزراء نے پارٹی کا کھنڈوا نہیں پہنا۔ کانگریس کے تمام ارکان پارٹی کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔ بی جے پی ارکان گیروے کپڑوں میں ملبوث دکھائی دیئے۔ سی پی ایم کے واحد رکن ایس راجیا سرخ شرٹ زیب تن کیے ہوئے تھے۔
l   گورنر نے اپنی تقریر کا آغاز اور اختتام تلگوزبان میں کیا جبکہ درمیانی تقریر کا حصہ انگریزی میں پڑھا۔ اپوزیشن کی نشستوں پر سب سے آگے کانگریس کے کے جانا ریڈی اور محمد علی شبیر تھے۔ کانگریس ارکان کے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھے جن پر کسانوں کی خودکشی اور دیگر مسائل سے متعلق نعرے درج تھے۔
l ایوان میں 9:30 بجے سے ہی بڑی تعداد میں مارشلوں کو تعینات کردیا گیا تھا۔ جبکہ اسمبلی قواعد کے مطابق مارشل اس وقت طلب کیے جاتے ہیں جب ہنگامہ آرائی کی صورت میں اسپیکر ہدایت دیں۔ لیکن یہاں 50 سے زائد مرد و خاتون مارشلس کانگریس ارکان کو روکنے کے لیے پہلے ہی سے تعینات تھے۔
TOPPOPULARRECENT