Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / گورنر نرسمہن پر اثر انداز ہونے اے پی حکومت کی کوشش

گورنر نرسمہن پر اثر انداز ہونے اے پی حکومت کی کوشش

مرکز سے نمائندگی رائیگاں ، چندرا بابو کی جانب سے سیکوریٹی تبدیلی کرنے پر ٹی آر ایس کا اعتراض

مرکز سے نمائندگی رائیگاں ، چندرا بابو کی جانب سے سیکوریٹی تبدیلی کرنے پر ٹی آر ایس کا اعتراض
حیدرآباد۔/16جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو اور آندھرا پردیش کے وزراء پی پلا راؤ اور آر کشور گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پارٹی کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ نوٹ برائے ووٹ اسکام میں چندرا بابو نائیڈو کو بچانے کیلئے آندھرا پردیش حکومت ریاستی گورنر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے اور انہیں مختلف انداز سے بلیک میل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر دستور اور قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہیں لہذا ان پر اس طرح کا دباؤ اور بلیک میل کی کوشش افسوسناک ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ چونکہ گورنر اپنے دستوری فرائض انجام دے رہے ہیں لہذا چندرا بابو نائیڈو انہیں فرائض سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پربھاکر نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ دستور پر حلف لینے والے آندھرا پردیش کے وزراء اپنے فرائض کو بھلا کر گورنر کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پر اس بات کیلئے دباؤ ڈالا گیا کہ کسی طرح چندرا بابو نائیڈو کو نوٹ برائے ووٹ اسکام سے بچایا جائے لیکن مرکز سے کی گئی نمائندگیاں رائیگاں ثابت ہوئیں لہذا اب گورنر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے چندرا بابو نائیڈو کو کسی طرح کی تائید حاصل نہیں ہوئی لہذا حیدرآباد میں سیکشن 8نافذ کرتے ہوئے گورنر کو زائد اختیارات دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے نوٹ برائے ووٹ اسکام کے ایک ملزم کو آندھرا پردیش پولیس کی جانب سے اپنی تحویل میں رکھنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ پربھاکر نے کہا کہ شہر میں سرکاری اراضیات پر ناجائز قبضوں کی برخواستگی کیلئے حکومت کی جانب سے جو انہدامی کارروائی کی گئی اسے آندھرائی باشندوں کے خلاف کارروائی کا رنگ دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے شکایت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت آندھرائی عوام کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی گزشتہ ایک سال کے دوران اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا جس میں آندھرائی عوام کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے چندرا بابو نائیڈو کے خلاف کارروائی کا اشارہ ملتے ہی کرپشن سے متعلق اس معاملہ کو دونوں ریاستوں کے درمیان تنازعہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اینٹی کرپشن کی کارروائی میں حکومت کا کوئی دخل نہیں ہے اور اینٹی کرپشن بیورو مکمل غیر جانبداری کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کررہا ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ اس اسکام کے منظر عام پر آنے کے بعد سے گزشتہ دس دن سے چندرا بابو نائیڈو کی نیند حرام ہے اور انہوں نے اپنی قیامگاہ کے روبرو تلنگانہ پولیس کے بجائے آندھرائی پولیس کو تعینات کیا ہے۔ انہوں نے سیکورٹی عہدیداروں کی تبدیلی پر اعتراض کیا۔ پربھاکر نے کہا کہ اینٹی کرپشن بیورو کے پاس اسکام کے سلسلہ میں مکمل ثبوت موجود ہے اور آندھرا پردیش حکومت کی لاکھ کوششوں کے باوجود قانونی کارروائی میں رکاوٹ پیدا نہیں کی جاسکتی۔ پربھاکر نے اسکام سے متعلق تحقیقات کو روکنے کیلئے آندھرا پردیش پولیس کی جانب سے جوابی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں میں چندر شیکھر راؤ کے خلاف مقدمات درج کرنا اسی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے مقدمات سے تلنگانہ حکومت کو دھمکایا نہیں جاسکتا۔ پربھاکر نے کہاکہ آندھرا پردیش کے عوام بھی جان چکے ہیں کہ چندرا بابو نائیڈو بدعنوانی سے متعلق مقدمہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں آندھرا پردیش عوام کی بھی تائید حاصل نہیں ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT