Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنر کا خطبہ مایوس کن، بارہ فیصد مسلم تحفظات نظرانداز

گورنر کا خطبہ مایوس کن، بارہ فیصد مسلم تحفظات نظرانداز

خطبہ ،چیف منسٹر کے سی آر کی تقریر کی نقل، قائداپوزیشن تلنگانہ کونسل محمدعلی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد 10 مارچ (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے گورنر کے خطبہ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہاکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر کی تقریر گورنر کے خطبہ میں تبدیل ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے گورنر کے خطاب کے بعد میڈیا پوائنٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے یہ بات بتائی۔ اس موقع پر کانگریس کے ارکان کونسل مسٹر محمد فاروق حسین، مسز اے للیتا، مسٹر دامودھر ریڈی، مسٹر سنتوش کمار بھی موجود تھے۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہاکہ بجٹ اجلاس سے تلنگانہ عوام کو کافی امیدیں وابستہ تھیں تاہم گورنر کے خطبہ نے اس پر پانی پھیر دیا۔ گورنر کے خطبہ سے حکومت کے ارادے کے علاوہ واضح موقف کا اظہار ہوتا ہے۔ تاہم یہ خطبہ مایوس کن ہے۔ چیف منسٹر کی تقاریر کو گورنر کے خطبہ میں تبدیل کرتے ہوئے گورنر کو بھی اپنے جھوٹ کا حصہ دار بنادیا گیا ہے۔ 2014 ء کے عام انتخابات میں ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور کے ذریعہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ 20 مہینے پرانی ٹی آر ایس حکومت میں مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ کم از کم گورنر کے خطبہ میں بھی اس کو شامل نہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو مایوس کیا گیا۔ گورنر نے اپنے خطبہ میں پڑوسی ریاست مہاراشٹرا سے پانی کے تنازعات کو کامیابی سے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مضحکہ خیز ہے۔ 5 مئی 2012 ء کو آندھراپردیش کے چیف منسٹر کرن کمار ریڈی اور مہاراشٹرا کے چیف منسٹر پرتھوی راج چوہان نے 152 میٹر سے متعلق معاہدوں پر دستخط کئے تھے۔ چیف منسٹر تلنگانہ نے نئے معاہدے میں بلندی کو 4 میٹر گھٹاتے ہوئے 148 میٹر پر معاہدہ کرتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ حقائق سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کا جلوس منظم کیا گیا جس طرح وہ کسی ملک سے جنگ جیت کر آئے ہیں اور ٹی آر ایس کے قائدین اس کو بہت بڑے کارنامے کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں کانگریس پارٹی نہ صرف حقائق سے پردہ اٹھائے گی بلکہ کانگریس کے دور حکومت میں کئے گئے معاہدہ کی کاپی بھی گورنر کو روانہ کرے گی۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ اس کے علاوہ ٹی آر ایس کے منشور سے کئے گئے دیگر اہم وعدوں میں دلت طبقات کو 3 ایکر اراضی کی تقسیم، قبائیلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات، فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایا جات، یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے تقررات وغیرہ کو یکسر نظرانداز کردیا گیا۔ ساتھ ہی بی سی اور اقلیتی سب پلان پر بھی حکومت کے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ انتخابات کے بعد ٹی آر ایس حکومت برقی اور جائیدادوں کے ٹیکس میں غیر معمولی اضافہ کرتے ہوئے عوام پر زائد مالی بوجھ عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ گورنر بھی چیف منسٹر کا بھجن کرنے والے بھجن منڈلی میں شامل ہوگئے۔ اسمبلی کی رول کمیٹی کے ایک سال تک معطل کردینے کے انتباہ پر اپوزیشن کی جانب سے گورنر کے خطبہ پر ایوان میں کوئی شوروغل نہ کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ رول کوئی نیا نہیں ہے اور گورنر کو ایک یا دو سال تک کسی بھی رکن کو معطل کرنے کا اختیار ہے۔ گورنر کے خطبہ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس لئے کوئی احتجاج نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT