Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / گورنر کوٹہ سے مسلم قائد کو ایم ایل سی نامزد نہ کرنے پر تنقید

گورنر کوٹہ سے مسلم قائد کو ایم ایل سی نامزد نہ کرنے پر تنقید

ایڈوکیٹ جنرل کی نامزدگی پر بھی اعتراض ، محمد فاروق حسین کا ردعمل

ایڈوکیٹ جنرل کی نامزدگی پر بھی اعتراض ، محمد فاروق حسین کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل و رکن تلنگانہ پردیش کانگریس تادیبی کمیٹی مسٹر محمد فاروق حسین نے مخالف مسلم تحفظات وکیل کو حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل نامزد کرنے کی سخت مذمت کی ۔ گورنر کوٹہ میں ایک بھی مسلم قائد کو کونسل کا رکن نہ بنانے پر تنقید کی ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلم تحفظات کے معاملے میں غیر سنجیدہ ہے ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کے ذریعہ وعدہ کیا گیا ۔ ٹی آر ایس حکومت کی تشکیل کے 22 دن مکمل ہوچکے ہیں تاہم اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے کوئی جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا گیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی نے جاریہ سال 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کو ناممکن قرار دیا ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چیف منسٹر کی جانب سے جنگی خطوط پر اقدامات کرنا چاہئے ۔ تاہم مخالف مسلم تحفظات کا مقدمہ لڑنے والے وکیل رام کرشنا ریڈی کو ہائی کورٹ کا ایڈوکیٹ جنرل نامزد کرتے ہوئے کانگریس حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات کو نقصان پہونچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں اور چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے استفسار کرتے ہیں کہ انہوں نے مخالف مسلم تحفظات ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں پیروی کرنے والے وکیل کو کیوں ایڈوکیٹ جنرل نامزد کیا وہ صرف بحیثیت وکیل مسلم تحفظات کی مخالفت کررہے ہیں ۔ ایڈوکیٹ جنرل کی حیثیت سے مسلم تحفظات کو کیسے قبول کرلیں گے ۔ ان کی تھوڑی سی غفلت سارے مسلم سماج کو تحفظات سے محروم کرسکتی ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے والی ٹی آر ایس موجودہ 4 فیصد مسلم تحفظات کو نقصان پہونچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ مسٹر محمد فاروق حسین نے گورنر کوٹہ میں ٹی آر ایس کی جانب سے نامزد 2 ارکان میں ایک بھی مسلم قائد کو کونسل کا رکن نہ بنانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کو صرف مسلمانوں کے ووٹ چاہئے ۔ عہدے وہ دوسرے طبقات کے قائدین کو دیتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT