Wednesday , January 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / گورنر کو زائد اختیارات ، جمہوریت پر ڈاکہ

گورنر کو زائد اختیارات ، جمہوریت پر ڈاکہ

کریم نگر /13 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ میں عوام کی منتخبہ حکومت ہے لیکن اس کے باوجود گریٹر حیدرآباد کے نظم و نسق پر گورنر کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے جمہوریت پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اور عوام کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کیلئے 10 سال تک مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو زائ

کریم نگر /13 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تلنگانہ میں عوام کی منتخبہ حکومت ہے لیکن اس کے باوجود گریٹر حیدرآباد کے نظم و نسق پر گورنر کو مکمل اختیارات دیتے ہوئے جمہوریت پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اور عوام کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے ۔ آندھراپردیش اور تلنگانہ کیلئے 10 سال تک مشترکہ دارالحکومت حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو زائد اختیارات دینا قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے ۔ دفعہ 8 میں کہیں بھی گورنر کو زائد اختیارات دئے جانے کا ذکر نہیں ہے بلکہ ریاستی حکومت سے رائے مشورہ کرکے کسی الجھے ہوئے معاملے میں فیصلہ لینے اور حکومت کی تجویز پر عمل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے ۔ گورنر کی حیثیت صرف نگرانکار کی حیثیت سے ہے ۔ نظم و نسق کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہونے کے اندیشہ پر وہ مداخلت کرنے کا مجاز ہوگا ۔ گورنر کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کیلئے ریاستی حکومت کے چیف سکریٹری سے مشورہ کرنا ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی جگتیال و سابق ریاستی وزیر ٹی جیون ریڈی نے کریم نگر میں منعقدہ پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات کے سلسلے میں مرکزی حکومت کا فیصلہ نہایت ہی بدبختانہ اور افسوسناک ہے ۔ انہیں تقسیم آندھراپردیش کی آئین کے دفعہ 8 کے حوالے پر حیرت ہے ۔ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ریاستی حکومت کا ہوتا ہے اور وہی عوام کو جواب دے ہے ۔ انہوں نے گورنر سے متعلق فیصلے سے باز اجانے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کو زبردستی اختیارات دینے کا حق مرکزی حکومت کو کسی بھی حال میں قانونی یا اخلاقی طور پر نہیں ہے ۔ گورنر کسی بھی صورتحال میں پولیس ڈی ایس پی یا ایس پیز کو کوئی حکم نہیں دے سکتا‘ نہ ہی ان کے تبادلے کے احکام دے سکتا ہے ۔ حیدرآباد اور یا سائبرآباد کے علحدہ علحدہ ڈی جی پیز ہوں گے ۔گورنر کو ان کے تبادلوں میں مداخلت کا اختیار نہیں ہوگا ۔ یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی ۔ تنظیم جدید قانون میں کہیں بھی گورنر کو زائد اختیارات دئے جانے کا ذکر ہی نہیں ہے ۔ یہ صرف این ڈی اے کی مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی ہے ۔ اسی لئے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو فاشسٹ کہا ہے ۔ یہ صحیح ہے ۔ جیون ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کو چاہئے کہ کل جماعتی قائدین کے ساتھ ملکر گورنر کے اختیارات کے خلاف آواز بلند کریں اور دہلی جاکر جدوجہد کرتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے اور قانونی لڑائی لڑنے کے تعلق سے صرف دعوی کرنے پر کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ کے سی آر کے کھوکھلے دعووں کا نتیجہ ہے کہ تقسیم تلنگانہ کے بعد تلنگانہ کے 7 منڈلس پولاورم پراجکٹ کے تحت حاصل کرلیا گیا ہے اور کے سی آر صرف چیختے چلاتے رہ گئے وہ کچھ نہیں کرسکے ۔ اسی طرح گورنر کو زائد اختیارات کا معاملہ بھی ہوسکتا ہے ۔ چنانچہ کل جماعتی قائدین کے ساتھ گورنر کو زائد اختیارات کے خلاف جدوجہد کرنا ضروری ہے ۔ ٹی جیون ریڈی نے جامع خاندانی سروے پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے روزانہ دیڑھ کروڑ افراد کے روزگار کا نقصان ہوگا اور ایک دن میں 7.5 کروڑ روپئے کا نقصان ہوگا ۔ حیدرآباد میں تقریباً 20 لاکھ افراد تلنگانہ کے مختلف مقامات پر رہتے ہیں ۔ وہ آخر کس طرح اپنے آبائی مقام کو جاپائیں گے ۔ اس پریس کانفرنس میں ایم ایل سی ٹی سنتوش کمار سابق زیڈ پی چیرمین اڈلوری لکشمن کمار اور دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT