Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / گورنر کو زائد اختیارات کی گنجائش نہیں، مرکز کے اقدام کی مخالفت

گورنر کو زائد اختیارات کی گنجائش نہیں، مرکز کے اقدام کی مخالفت

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا اعلیٰ عہدیداروں کیساتھ اجلاس، امن و ضبط کی صورتحال پر غوروخوض

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کا اعلیٰ عہدیداروں کیساتھ اجلاس، امن و ضبط کی صورتحال پر غوروخوض
حیدرآباد۔/9اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال پر گورنر کے اختیارات سے متعلق مرکز کے مکتوب کا جائزہ لیا۔ مرکز کی جانب سے کل روانہ کردہ تفصیلی مکتوب میں شامل تمام اُمور کا جائزہ لیتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ کو تفصیلی جواب روانہ کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت دی گئی۔ چیف منسٹر نے چیف سکریٹری سے کہا کہ وہ ماہرین قانون اور اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کے ذریعہ تفصیلی جواب تیار کریں اور اس میں اس بات پر زور دیا جائے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومت کے تحت ہوتا ہے اور اس میں گورنر کو زائد اختیارات کی کوئی گنجائش نہیں۔ تلنگانہ حکومت دستوری و قانونی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکز کے اس اقدام کی مخالفت کرے گی۔ اجلاس میں چیف منسٹر نے واضح کردیا کہ حیدرآباد کے لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کو زائد اختیارات کی تجویز قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس مسئلہ پر ماہرین قانون سے مشاورت کریں تاکہ قانونی لڑائی کی تیاری کی جاسکے۔ چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے سینئر قائدین اور بعض وزراء سے بھی اس مسئلہ پر مشاورت کی اور اس بات کا اشارہ دیا کہ لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر مرکز کے فیصلہ کے خلاف جدوجہد کے آغاز کا وقت آچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز کے مکتوب کے خلاف چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے حکومت کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے ایک مکتوب روانہ کردیا ہے جس میں اس تجویز کو دستوری قواعد کے مغائر قرار دیا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گورنر کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت اور کابینہ سے مشاورت کے ذریعہ خدمات انجام دیں برخلاف اس کے مرکزی حکومت لاء اینڈ آرڈر جیسے حساس مسئلہ پر گورنر کو حکومت پر مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ گورنر کا کام ریاستی کابینہ کے فیصلہ پر عمل کرنا ہے بتایا جاتا ہے کہ مختلف وزراء اور سینئر قائدین نے بھی چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ مرکز کے اس فیصلہ کے خلاف عوامی اور قانونی سطح پر جدوجہد کی تیاری کریں۔ پارٹی ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس مسئلہ پر نئی دہلی میں اپنا احتجاج درج کریں۔

TOPPOPULARRECENT