Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنر کے خطبہ میں مسلمانوں کو تحفظات کا تذکرہ نہیں

گورنر کے خطبہ میں مسلمانوں کو تحفظات کا تذکرہ نہیں

12 فیصد کوٹہ دینے حکمراں پارٹی کا وعدہ دھوکہ : وینکٹیشورلو کا بیان
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن کے دئیے گئے خطبہ میں مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا جب کہ حکومت نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کی ہے ۔ آج یہاں اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کے لیے جاری مباحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر پی وینکٹیشورلو رکن اسمبلی وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے یہ بات کہی اور دریافت کیا کہ آیا مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملہ میں کیا اقدامات کی ہے ۔ اس کی وضاحت کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور استفسار کیا کہ آخر کب تک مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اقدامات کئے جائیں گے واضح کرنے کا پر زور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے حکومت کی کارکردگی اور گورنر کے خطبہ کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گورنر کے خطبہ میں طلباء کی فیس ری ایمبرسمنٹ کا بھی تذکرہ نہیں کیا گیا جب کہ 3700 کروڑ روپئے فیس ری ایمبرسمنٹ کے واجب الادا ہیں اور حکومت ان رقومات کی ادائیگی پر پہلوتہی کررہی ہے جس کی وجہ سے کالج انتظامیوں کی جانب سے فیس رقومات کی ادائیگی کے لیے طلباء کو ہراساں کررہے ہیں یہاں تک کہ کامیاب امیدواروں کو ان کے سرٹیفیکٹس نہیں دئیے جارہے جب کہ طلباء اپنی فیس کی رقم ادا کر کے سرٹیفیکٹس حاصل کرنے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ رکن اسمبلی وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے حکومت کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات رقومات کی فی الفور ادائیگی کا پر زور مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مختلف موضوعات کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت صرف زبانی وعدے کر کے عوام کو دھوکے دے رہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT