Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / گورنمنٹ اُردو میڈیم جونیر کالجس کیلئے 69 لیکچررس کی جائیدادیں منظور

گورنمنٹ اُردو میڈیم جونیر کالجس کیلئے 69 لیکچررس کی جائیدادیں منظور

 

l 81 گورنمنٹ جونیر کالجس کیلئے 1133 لیکچررس کی منظوری
l پارٹ ٹائم جونیر لیکچررس ، پارٹ ٹائم لیاب اٹنڈرس
l سروا سکھشا ابھیان پارٹ ٹائم انسٹرکٹرس اور دیگر کی تنخواہوں میں اضافہ

حیدرآباد۔ 31 اگست (سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سیلف فینانسنگ سے چلنے والے 15 گورنمنٹ اردو میڈیم جونیر کالجس کیلئے 69 لیکچررس کی جائیدادوں کو منظوری دی۔ حکومت نے ان کالجس کے طلبہ پر مالی بوجھ عائد کئے بغیر تمام اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا۔ 2008ء کے بعد قائم کئے گئے 81 گورنمنٹ جونیر کالجس کیلئے 1133 لیکچررس کی جائیدادوں کو بھی منظوری دی۔ پارٹ ٹائم خدمات انجام دینے والے جونیر لیکچررس کی تنخواہوں میں بھی دوگنا اضافہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ پارٹ ٹائم لیاب اٹنڈرس کی تنخواہوں میں 3,900 سے 7,800 تک اضافہ کیا گیا۔ سروا سکھشا ابھیان اور کستوربا گاندھی تعلیمی اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا۔ حکومت کے اس فیصلے سے 11,839 ملازمین کو فائدہ پہونچے گا۔ ریاست میں 15 اردو میڈیم گورنمنٹ جونیر کالجس کے 21 سیکشنس جو سیلف فینانسنگ کے ذریعہ چل رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے ان کالجس میں 69 لیکچررس کی جائیدادوں کو منظوری دی ہے اور ساتھ میں حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں طلبہ پر کوئی مالی بوجھ عائد نہیں کیا جائے گا۔ سارے مصارف حکومت برداشت کرے گی، اس فیصلے سے حکومت پر سالانہ 1,86,30,000 روپئے کا بوجھ عائد ہوگا۔ حکومت ان جائیدادوں پر لیکچررس کی کنٹراکٹ پر خدمات حاصل کرتے ہوئے انہیں ماہانہ 27,000 روپئے تنخواہ ادا کرے گی۔ 2008ء کے بعد قائم کئے گئے 81 گورنمنٹ جونیر کالجس کیلئے بھی چیف منسٹر نے 1133 جائیدادوں کو منظوری دی ہے۔ ان کالجس میں کنٹراکٹ سسٹم کو ختم کرتے ہوئے مستقل اساس (ریگولر) طریقہ پر جونیر لیکچررس کی جائیدادوں پر تقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف منسٹر نے ایک طرف جونیر کالجس میں لیکچررس کی جائیدادوں کو منظوری دی۔ دوسری طرف پارٹ ٹائم خدمات انجام دینے والے 63 جونیر لیکچررس کی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ کیا ہے۔ پہلے انہیں ماہانہ 10,800 روپئے تنخواہیں ادا کی جاتی تھی۔ اضافہ کرنے کے بعد وہ ماہانہ 21,600 روپئے تنخواہیں حاصل کریں گے۔ پارٹ ٹائم لیاب اٹنڈرس کی تنخواہوں میں 3,900 سے 7,800 روپئے تک اضافہ کیا گیا جس سے حکومت پر 88,32,000 پر زائد مالی بوجھ عائد ہوگا۔ کستوربا گاندھی گرلز اسکولس اور سروا سکھشا ابھیان میں خدمات انجام دینے والے تقریباً 11,839 ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔ سروا سکھشا ابھیان کے 2,690 پارٹ ٹائم انسٹرکٹرس کی تنخواہوں کو 6000 سے بڑھاکر 9000 روپئے کلٹرس ریسورس پرسن کی تنخواہوں کو 11,400 سے بڑھاکر 15,000 روپئے ایم آئی ایس کوآرڈینیٹرس کی تنخواہوں کو 13 ہزار سے بڑھاکر 15 ہزار ڈاٹا انٹری آپریٹرس کی تنخواہوں کو 12 ہزار سے بڑھاکر 14 ہزار روپئے مینیجرس کی تنخواہوں کو 8 ہزار سے بڑھاکر 8,500 سسٹم انالاسسٹ کی تنخواہوں کو 15,000 سے بڑھاکر 16,500 ہزار سیز پروگرام ٹیکنیکل کنسلٹنٹ کی تنخواہوں کو 35,000 سے 40,000 روپئے کنسلٹنٹس کی تنخواہوں کو 25,000 سے بڑھاکر 35,000 ہزار روپئے ڈاٹا پروسیسنگ آفیسرس کی تنخواہوں کو 16,500 سے بڑھاکر 17,500 روپئے اس طرح کستوربا گرلز اسکولس میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT