گورکھپور ضمنی چناؤ میں ایس پی ۔ بی ایس پی ہم آہنگی کی آزمائش

یوپی میں برسراقتدار بی جے پی نئی انتخابی مفاہمت سے بے پرواہ ۔ لوک سبھا کے ساتھ راجیہ سبھا الیکشن میں بھی کامیابی کا یقین
گورکھپور ؍ لکھنو ۔ 7 مارچ ۔( سیاست ڈاٹ کام ) گورکھپور کا لوک سبھا ضمنی چناؤ جسے اُترپردیش میں برسراقتدار بی جے پی کیلئے آسان مقابلہ سمجھا جارہا ہے ، کیوں کہ پانچ مرتبہ کے ایم پی اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ پیش پیش رہتے ہوئے انتخابی مہم چلارہے ہیں ، لیکن یہ الیکشن ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان یکایک انتخابی ہم آہنگی کے پیش نظر اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ 11 مارچ کو مقررہ ضمنی چناؤ کی ضرورت اس لئے آن پڑی کیونکہ آدتیہ ناتھ جو گورکھ ناتھ مندر کے مہنت بھی ہیں ، انھوں نے اُترپردیش قانون ساز کونسل کے لئے اپنے انتخاب کے بعد یہ نشست چھوڑ دی ہے ۔ اگرچہ رائے دہندوں میں چیف منسٹر کااثر بدستور پختہ معلوم ہوتا ہے لیکن سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان نئی مفاہمت نے اس مقابلے کو گرمادیاہے اور یقینی طورپر بی جے پی کو اپنے گڑھ میں آزمائش کا سامنا رہے گا ۔ نیز یہ امکان بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد ریاست میں 2019 ء کے عام انتخابات میں بھی برسراقتدار بی جے پی کے لئے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے ۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آدتیہ ناتھ کی جارحانہ انتخابی مہم اور اُن کے عام جلسوں سے عکاسی ہوتی ہے کہ وہ ایس پی اور بی ایس پی کے خلاف کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتے ۔ اس درمیان کانگریس انتخابی مہم سے عملاً غائب ہوگئی ہے ۔ گورکھپور کے ساتھ پھولپور میں بھی ضمنی انتخابات ہورہے ہیں اور بی جے پی نے اعتماد ظاہر کیا ہے کہ ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان نئے تال میل کے باوجود انتخابی مقابلے پر کچھ اثر نہ پڑے گا ۔ بی جے پی میڈیا زونل انچارج ستیندر سنہا نے کہاکہ اس اتحاد کا کچھ اثر نہیں ہوگا ۔ بی جے پی زبردست فرق کے ساتھ یقینا کامیابی حاصل کرلے گی ۔ عوام اب اس طرح کے اتحادوں کی حقیقت کو سمجھ چکے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ گورکھ ناتھ کے مہنت کا چیف منسٹر بھی ہونا پارٹی ورکرس کے حوصلوں کو بلند کرتا ہے ۔ دریں اثناء اس ماہ اُترپردیش میں راجیہ سبھا انتخابات بھی ہونے والے ہیں اور یہ الیکشن بھی بی ایس پی اور ایس پی کیلئے اپنی طاقت کو آزمانے کا ایک موقع رہے گا جس کے نتائج پر مستقبل کا اتحاد بنایا جاسکتا ہے ۔ حال ہی میں بی اے پیس سربراہ مایاوتی نے ایسے اشارے دیئے ہیں کہ اُن کی پارٹی راجیہ سبھا چناؤ کے لئے ایس پی اور کانگریس کے ساتھ معقول معاملت پر رضامند ہوسکتی ہے ۔ تاہم اتوار کو ایک بیان میں انھوں نے لوک سبھا ضمنی چناؤ کے لئے سہ رخی انتخابی اتحاد کا امکان مسترد کیا تھا ۔ مایاوتی نے کہا کہ اگر ایس پی اور بی ایس پی لیجسلیٹرس اپنے ووٹوں کی طاقت کے ذریعہ راجیہ سبھا الیکشن اور یو پی قانون ساز کونسل چناؤ میں بی جے پی کو شکست دیتے ہیں تو اسے انتخابی اتحاد نہیں سمجھا جانا چاہئے ۔ ’’ہماری پارٹی ایس پی کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ ہماری پارٹی سے راجیہ سبھا میں نمائندگی ہوگی اور اس کے عوض ہم قانون ساز کونسل کے چناؤ میں اُن (حلیف) کی مدد کریں گے ‘‘ ۔ جہاں لوک سبھا چناؤ 11 مارچ کو مقرر کئے گئے ہیں ، وہیں چار راجیہ سبھا نشستوں کیلئے 23 مارچ کو الیکشن حسب ضرورت منعقد ہوگا ۔ لوک سبھا کی نشستیں آدتیہ ناتھ کے علاوہ ڈپٹی سی ایم کیشو پرساد موریہ نے خالی کی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT