Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / گورکھپور فساد کیس 2007 ء میں پرویز کی عرضی خارج

گورکھپور فساد کیس 2007 ء میں پرویز کی عرضی خارج

الہ آباد ہائیکورٹ کا اقدام۔ موجودہ چیف منسٹر اور تب کے ایم پی ادتیہ ناتھ کیس کے ملزمین میں شامل
الہ آباد 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائی کورٹ نے وہ عرضی خارج کردی ہے جس کے ذریعہ 2007 ء کے گورکھپور فساد کیس سے متعلق ایف آئی آر کی آزادانہ تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس کیس میں چیف منسٹر اترپردیش اور تب کے گورکھپور ایم پی یوگی ادتیہ ناتھ ملزمین میں شامل تھے۔ جسٹس کرشنا مراری اور جسٹس اکھلیش چندر شرما کی بنچ نے پرویز پرواز اور اسد حیات کی داخل کردہ پٹیشن خارج کرتے ہوئے کہاکہ اُسے مروجہ طریقہ کار کے مطابق کوئی بے قاعدگی معلوم نہیں ہوئی کہ اِس کیس میں ملزمین پر مقدمہ چلانے کیلئے منظوری دینے سے انکار کیا گیا ہے۔ پرواز اِس فساد کیس کے سلسلہ میں درج رجسٹر ایف آئی آر کا شکایت کنندہ ہے اور حیات گواہ ہے۔ اِس رٹ پٹیشن کے معرض التواء رہنے کی مدت میں مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے پرنسپل سکریٹری (داخلہ) نے 3 مئی 2017 ء کو انکار کیا تھا اور اِس انکار کے جواز کو بھی درخواست گذاروں نے چیالنج کیا ہے۔ رٹ پٹیشن میں درخواست گذاروں نے عدالت سے ایسا حکمنامہ جاری کرنے کی استدعا کی تھی کہ گورکھپور میں 2008 ء درج کردہ ایف آئی آر کی کوئی آزاد ایجنسی کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ 27 جنوری 2007 ء کو پیش آئے مبینہ فرقہ وارانہ تشدد کے کیس میں اُس وقت کے رکن لوک سبھا یوگی ادتیہ ناتھ اور 3 دیگر کو ملزمین نامزد کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا کہ ادتیہ ناتھ، اُس وقت کے میئر سٹی انجو چودھری، اُس وقت کے ایم ایل اے آر ایم اگروال اور ایک دیگر شخص نے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکایا تھا اور گورکھپور میں 2007 ء کا فساد پیش آیا تھا۔ یہ بیان کرتے ہوئے کہ اِس معاملہ کی سی بی ۔ سی آئی ڈی تحقیقات کررہے ہیں، درخواست گذار نے تشویش ظاہر کی تھی کہ اسٹیٹ پولیس ہوسکتا ہے غیر جانبداری سے کام نہ کرے اور اِسی لئے اِس تحقیقات کو کسی آزاد ایجنسی کو منتقل کردینے کی درخواست کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT